اسلامی اخلاق
Urdu book, p. 109
By Maulana Wahiduddin Khan
بالصرعۃ انما الشدید من یملک نفسہ ہے جو حریف کو پچھاڑ دے۔ پہلوان وہ ہے عند الغضب (صحیح مسلم) جو غصہ کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھے۔ اذ اغضب احدکم فلیسکت جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اس کو چاہئے (الجامع الصغیر) کہ وہ چپ ہو جائے ۔ غصہ دراصل ردعمل کا دوسرا نام ہے۔ ان آیتوں اور حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کا طریقہ ردعمل کا طریقہ نہیں ہوتا۔ مومن کو کسی کے خلاف غصہ آتا ہے تو اس کے جواب میں وہ اس کو معافی لوٹاتا ہے۔ وہ منفی نفسیات سے اوپر اٹھ کر لوگوں سے معاملہ کرتا ہے۔ وہ غصہ اور تلخی کو ظاہر نہیں کرتا بلکہ اندر ہی اندر اس کو پی جاتا ہے۔ مومن اس دنیا میں پھول کی طرح رہتا ہے۔ اس کو ہر کہیں تب بھی وہ برہنہ والے کو خوشبو دے گا۔ اس کو پتھر ماریں تب بھی اس کا سکون بھنگ نہیں ہوگا۔ غلطی ہو جانے کے بعد انسان خواہ کتنا ہی اچھا ہو، دوسروں کے درمیان رہتے ہوئے بار بار اس سے غلطیاں ہوتی ہیں۔ بار بار لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی ہو جاتی ہے۔ ایسے مواقع کے لئے یہ اخلاق بتایا گیا ہے کہ جب کوئی برائی ہو جائے تو فوراً بھلائی کرو۔ اس سے تمہاری برائی کا اثر دھل کر ختم ہو جائے گا۔ چنانچہ حدیث میں ارشاد ہوا ہے : اِتَّقِ اللهَ حَيْثُمَا كُنْتَ وَاتَّبِعِ السَّيِّئَةَ تم جہاں بھی ہو اللہ سے ڈرتے رہو۔ اور الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ جب برائی ہو جائے تو اس کے بعد نیکی کرلو، حَسَنٍ (الجامع الصغیر) وہ اس کو مٹا دے گی۔ اور لوگوں کے درمیان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader