اسلامی معاشرہ
Urdu book, p. 116
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ارشادات کی روشنی میں اسلامی سماج کی جو تصویر بنتی ہے وہ یہ ہے کہ مومن دوسرے لوگوں کے درمیان اس طرح رہتا ہے کہ وہ ان کو غیر نہیں سمجھتا بلکہ اپنا ہی ایک حصہ سمجھتا ہے ۔ دوسروں کے کسی رویہ سے جب اس کو خوشی محسوس ہوتی ہے تو وہ جان لیتا ہے کہ دوسرے کس بات سے خوش ہوں گے۔ اس لئے وہ خود بھی دوسروں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرنے لگتا ہے۔ اسی طرح جب کسی کا ایک رویہ اس کے لئے تکلیف کا باعث ہوتا ہے تو اس کو معلوم ہو جاتا ہے کہ دوسرے کس چیز سے تکلیف محسوس کریں گے اور وہ اس کا سخت اہتمام کرتا ہے کہ دوسروں کو اس کی ذات سے اس قسم کے سلوک کا تجربہ نہ ہونے پائے۔ حتی کہ ایک مسلم آبادی ایک واحد جسم کی مانند ہو جاتی ہے۔ جسم کے ایک حصہ میں تکلیف ہو تو نا ممکن ہے کہ بقیہ جسم اس کے لئے تڑپ نہ اٹھے۔ اس طرح ایک مسلمان کی تکلیف سارے مسلمانوں کی تکلیف بن جاتی ہے۔ اور لوگوں کو اس وقت تک چین نہیں آتا جب تک وہ اپنے بھائی کی تکلیف دور نہ کر دیں ۔ اسلامی سماج ایک ایسا سماج ہے کہ جب بھی ایک شخص کا دوسرے سے واسطہ پڑتا ہے تو وہ اس کے اندر محبت اور رحم دلی اور مہربانی پا تا ہے۔ ہر ایک دوسرے کی حاجت بر آری کے لئے اس طرح تیار رہتا ہے جیسے کہ وہ اس کا اپنا مسئلہ ہو۔ کوئی دوسرے شخص کو ننگا یا بے گھر دیکھتا ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے جیسے وہ خود ننگا اور بے گھر ہو گیا ہو کسی کو بر داشت نہیں ہوتا کہ وہ دوسرے بھائی کو بے سہارا چھوڑ دے۔ ایک کو دوسرے سے ظلم اور گھمنڈ کے بجائے تواضع اور انصاف ملتا ہے۔ کوئی کسی کے اوپر فخر نہیں کرتا، کوئی کسی کے اوپر حسد نہیں کرتا۔ بلکہ ہر ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader