Urdu book · اسلامی تعلیمات

اسلامی معاشرہ

Urdu book, p. 117

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسرے کا خیر خواہ ہوتا ہے ۔ ہر ایک دوسرے کا ساتھی بن جاتا ہے ۔ مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح رہتے ہیں کہ ان کے لئے نا قابل تصور ہوتا ہے کہ وہ اپنے بھائی کے خون کو اپنے لئے جائز کر لیں خواہ اس سے کتنی ہی زیادہ تکلیف ان کو پہنچی ہو ۔ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا مال لے لینے سے اس طرح بچتا ہے جیسے کوئی شخص آگ کو ہاتھ میں لینے سے بچتا ہے ۔ ایک مسلمان کے لئے دوسرے مسلمان کی آبرو پر حملہ کرنا اسی طرح ناممکن ہو جاتا ہے جیسے اپنے آپ کو بر سر بازار ننگا کرنا ۔ اسلامی سماج میں اس قسم کی فضا کا قدرتی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک حد درجہ متحد سماج بن جاتا ہے ۔ جس سماج میں ہر ایک دوسرے کے ساتھ انصاف کرے، ہر ایک دوسرے کا خیر خواہ ہو اس سماج میں اتحاد کے سوا اور کیا چیز جگہ پائے گی ۔ ایک مسلم آبادی اپنے تمام افراد کے ساتھ گو یا ایک بہت بڑی عمارت ہوتی ہے ۔ اس کا ہر فرد اس عظیم عمارت کی ایک اینٹ ہوتا ہے ۔ ہر اینٹ دوسری اینٹ سے جڑی ہوتی ہے ۔ ہر اینٹ دوسری اینٹ کو مضبوط کر رہی ہوتی ہے ۔ ایک اینٹ اور دوسری اینٹ کے درمیان جو تعلق ہوتا ہے وہ دوری اور ٹکر اؤ کا نہیں ہوتا بلکہ جوڑ اور پیوستگی کا ہوتا ہے ۔ ہر اینٹ اگر چہ ایک دوسرے سے الگ ہوتی ہے مگر الگ ہونے کے باوجود وہ سماجی اعتبار سے پوری عمارت کا ایک اٹوٹ حصہ ہوتی ہے ۔ اس سے عمارت کو طاقت ملتی ہے نہ کہ کمزوری ۔ وہ اپنے اوپر عمارت کو تھامے ہوئے ہوتی ہے نہ کہ خود عمارت کو اپنے او پر کھڑا کرنے کی کوشش کرے ۔ ایک مومن جس خدا کا طالب ہوتا ہے دوسرا مومن بھی اسی خدا کا طالب ہوتا ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page