Urdu book · اسلامی تعلیمات

اسلامی معاشرہ

Urdu book, p. 118

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک مومن کی منزل مقصود جس طرح آخرت ہوتی ہے، دوسرے مومن کی منزل مقصود بھی اسی طرح آخرت ہوتی ہے ۔ ایسی حالت میں کیوں کر ممکن ہے کہ وہ ایک دوسرے سے ٹکرائیں۔ مزید یہ کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ دنیا بھلائی اور برائی کی کش مکش کی جگہ ہے۔ یہاں شیطان کے ساتھی اپنے عمل کے لئے آزاد ہیں۔ جو شخص بھی بھلائی کے راستہ پر چلنا چاہے اس کو برائی کی طاقتوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنا راستہ بنانا ہوگا۔ اس لئے ضروری ہے کہ سب مسلمان مل کر رہیں ۔ باہم ملنے سے ان کی طاقت بہت بڑھ جائے گی ۔ اور وہ زیادہ کامیابی کے ساتھ برائی کی طاقتوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے رب کی طرف بڑھ سکیں گے ۔ اس قسم کا اسلامی سماج کس طرح بنتا ہے ۔ جواب یہ ہے کہ خوفِ خدا کے ذریعہ ۔ دنیا کی تمام بھلائیوں کا راز یہ ہے کہ آدمی اللہ سے ڈرے۔ اور دنیا کی تمام برائیوں کی جڑ یہ ہے کہ آدمی کا سینہ اللہ کے ڈر سے خالی ہو جائے ۔ حقیقت یہ ہے کہ وہی شخص دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کر سکتا ہے جو دوسروں کے معاملے میں اللہ سے ڈرتا ہو ۔ حضرت معمر تابعی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جن اصحاب سے میں ملا ان کو میں نے یہ کہتے ہوئے پایا کہ لوگوں میں تمہارا سب سے زیادہ خیر خواہ وہ ہے جو تمہارے معاملے میں اللہ سے ڈرتا ہو (انصح الناس لك من خاف الله فيك ، جامع العلوم والحكم ۷) یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ کی پکڑ کے اندیشہ کے سوا کوئی چیز آدمی کو رکنے والی نہیں بن سکتی۔ جب آدمی پر ایک جوانی جذبہ غالب آتا ہے ، جب کسی معاملہ میں اس کا کوئی مفاد وابستہ ہو جاتا ہے، جب کوئی چیز اس کے لئے عزت و وقار کا مسئلہ بن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page