اسلامی معاشرہ
Urdu book, p. 119
By Maulana Wahiduddin Khan
جاتی ہے تو اس وقت انسان وہ سب کچھ کرنا چاہتا ہے جو اس کے بس میں ہے۔ ایسے موقع پر صرف ایک ہی چیز ہے جو آدمی کو قابو میں رکھے اور اس کو انصاف کے راستہ سے ہٹنے نہ دے۔ اور وہ یہ احساس کہ ہر آدمی کا معاملہ اللہ کے یہاں پیش ہوتا ہے اور ہر ایک کو اس کے کئے کا پورا بدلہ ملنا ضروری ہے۔ دنیا میں اگر کوئی شخص اپنے کو بچا بھی لے تو آخرت میں وہ اپنے آپ کو خدا کی پکڑ سے نہیں بچا سکتا۔ مسلمانوں کا سماج خیر خواہی اور انصاف کا سماج ہوتا ہے۔ اس لئے کہ ان میں سے ہر شخص اللہ سے ڈرنے والا ہوتا ہے۔ ایک مسلمان کا معاملہ جب دوسرے مسلمان سے پیش آتا ہے تو اس کو وہ محض ایک انسانی معاملہ نہیں سمجھتا بلکہ ایک خدائی معاملہ سمجھتا ہے۔ اس کا ذہن یہ ہوتا ہے کہ میں ایک انسان سے نہیں بلکہ خدا سے معاملہ کر رہا ہوں جو تمام طاقتوں کا مالک ہے۔ ہر آدمی کے پیچھے اس کو خدا کھڑا ہوا نظر آتا ہے۔ ہر معاملہ اس کو ایک ایسا معاملہ دکھائی دیتا ہے جو آخرت کی عدالت میں پیش ہوگا۔ اور تمام کھلے اور چھپے کا جاننے والا مالک اس کے بارہ میں بے لاگ فیصلہ فرمائے گا۔ مسلمان یہ سمجھتا ہے کہ اس کو لا نہ گا مرنا ہے اور مرنے کے بعد اللہ کے یہاں حساب کتاب کے لئے حاضر ہونا ہے۔ وہ اللہ سے اس بات کی دعائیں کر رہا ہوتا ہے کہ آخرت کی پیشی کے دن وہ اس کے ساتھ نرمی کا معاملہ فرمائے۔ اس کی یہ نفسیات اس کو دوسرے انسانوں کے معاملہ میں نرم کر دیتی ہے۔ وہ اپنے ساتھ دوسروں کی زیادتیوں کو معاف کر دیتا ہے تاکہ اس کا خدا قیامت کے دن اس کی زیادتیوں کو معاف کر دے۔ وہ خدا کے بندوں کے ساتھ فیاضی کا معاملہ کرتا ہے تاکہ خدا بھی اس کے ساتھ فیاضی کا معاملہ کرے۔ بندوں کی طرف سے اس کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader