اسلامی معاشرہ
Urdu book, p. 120
By Maulana Wahiduddin Khan
جتنا ملتا ہے اس سے زیادہ وہ ان کو لوٹاتا ہے تا کہ خدا اس کے حقیر عمل کے بدلے اپنے بڑے سے بڑے انعامات اس کے حصہ میں لکھ دے۔ اسلامی سماج میں آدمی اپنے حقوق سے زیادہ اپنی ذمہ داریوں کو دیکھتا ہے اور اختلاف و شکایت کے مواقع پر خود اپنے کو قصور وار مان لیتا ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ ایک شخص کا قرض تھا۔ وہ آیا اور آپ سے بہت بھدے انداز میں تقاضا کرنے لگا۔ آپ کے اصحاب جو اس وقت آپ کے ساتھ تھے، اس کی سخت باتوں کو سن کر بگڑ گئے اور اس کو مارنا چاہا۔ آپ نے منع فرمایا۔ آپ نے اس کے قصور کو اپنے آپ پر لیتے ہوئے فرمایا: اس کو چھوڑ دو۔ کیوں کہ ایک حق دار کو کہنے سننے کا حق ہے ردّعوه فان لصاحب الحق مقالاً، متفق علیہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی ذات سے نمونہ قائم کر کے حق دار کو کہنے سننے کا موقع دیا اور اس طرح ہر قسم کے سماجی فساد کی جڑ کاٹ دی ۔ اسلامی سماج میں یہ مزاج ہوتا ہے کہ دوسروں کے ساتھ حد درجہ رعایت کی جائے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی آیا اور مدینہ کی مسجد نبوی میں پیشاب کرنے لگا۔ لوگ اس کو پکڑنے اور مارنے کے لئے دوڑے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو آپ نے لوگوں کو منع فرمایا اور اس کو پیشاب کرنے سے نہ اٹھایا۔ آپ نے کہا: اس اعرابی کو چھوڑ دو اور اس نے جہاں پیشاب کیا ہے وہاں ایک ڈول پانی ڈال دو۔ کیوں کہ تم آسانی پیدا کرنے کے لئے بھیجے گئے ہو، تم مشکل پیدا کرنے کے لئے نہیں بھیجے گئے (بخاری) عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نرم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader