Urdu book · اسلامی تعلیمات

اسلامی معاشرہ

Urdu book, p. 121

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے اور سارے معاملات میں نرمی کو پسند کرتا ہے (ان الله رفيق يحب الرفق في الامر كله، متفق علیہ)، یہ نرمی اور رعایت اسلامی سماج کی اہم ترین خصوصیت ہے۔ اسلامی سماج ایک با اصول سماج ہے مگر اس کے ساتھ وہ حد درجہ نرمی اور رعایت کا سماج ہے۔ مومن وہ ہے جو اپنے لئے شدت اور دوسرے کے لئے رعایت کو پسند کرے ۔ اسلامی سماج میں کم بولنے اور زیادہ عمل کرنے کا ماحول ہوتا ہے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مسلمان کا انتقال ہوا ۔ وہ ایک جہاد میں لڑ کر مرا تھا۔ ایک شخص نے کہا: اس کو جنت کی خوش خبری ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا: تم کو کیا معلوم شاید وہ شخص بے فائدہ باتیں کرتا رہا ہواور ایسے خرچ میں بخل کرتا رہا ہو جس میں اس کا نقصان نہ تھا (رعده تكلم بمالا يعنيہ او بخل بمالا يغنيه ، ترمذی) اسی طرح ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا وہ تمہارے عمل کو دیکھتا ہے ( ان الله لا ينظر الى صوركم ولكن ينظر الى اعمالكم)، اسلامی سماج بے حد سنجیدہ سماج ہوتا ہے۔ اس لئے وہاں کوئی شخص غیر ضروری کلام نہیں کرتا۔ ہر شخص کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ضروری کاموں میں مشغول رکھے ۔ اسلامی سماج میں اپنی محنت پر بھروسہ کرنے کا ماحول ہوتا ہے۔ آدمی مانگ کر حاصل کرنے کے بجائے کر کے حاصل کرنا چاہتا ہے۔ آدمی یہ نہیں سوچتا کہ جو کچھ دوسروں کے پاس ہے وہ میں چھین کر یا مطالبہ کرکے حاصل کر لوں بلکہ ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ نے مجھ کو ہاتھ پاؤں اور دل و دماغ کی صلاحیت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page