اسلامی معاشرہ
Urdu book, p. 122
By Maulana Wahiduddin Khan
دی ہے اس کو بر رویے کار لاکر اپنی زندگی اپنے آپ بناؤں۔ ابو عبد الرحمٰن عوف بن مالک اشجعی رضی کہتے ہیں ۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، اور ہم تقریباً نو آدمی تھے۔ آپ نے فرمایا : کیا تم رسول خدا سے بیعت نہیں کرتے۔ چوں کہ ہم جلدی بیعت کر چکے تھے، ہم نے کہا کہ اے خدا کے رسول ہم بیعت کر چکے ہیں۔ آپ نے دوبارہ فرمایا: کیا تم رسول خدا سے بیعت نہیں کرتے ، ہم نے اپنے ہاتھ پھیلا دئے اور کہا : اے خدا کے رسول ہم آپ کے ہاتھ پر بیعت کر رہے ہیں۔ پھر ہم کس چیز پر بیعت کریں۔ آپ نے فرمایا: یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو گے۔ اور پانچ وقت کی نماز اور اطاعت ۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا : ولا تسئلوا الناس شيئاً (اور تم لوگوں سے کوئی چیز نہ مانگو گے راوی کہتے ہیں کہ ان میں سے بعض کو میں نے دیکھا کہ وہ گھوڑے پر سوار ہے اور اس کا کوڑا گر گیا ہے تو وہ کسی سے مانگتا نہیں بلکہ اتر کر خود کوڑے کو اٹھاتا ہے (مسلم) اس کا مطلب ہے کہ اسلامی سماج میں مانگنے اور مطالبہ کرنے کا ماحول نہیں ہوتا۔ ہر شخص اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتا ہے اور اپنی ذاتی محنت پر بھروسہ کرتا ہے۔ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور اللہ پر ایمان لانا سب سے افضل اعمال ہیں۔ ایک شخص اٹھا اور اس نے کہا: اے خدا کے رسول کیا اگر میں اللہ کے راستہ میں مارا جاؤں تو میری خطائیں بخش دی جائیں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : ہاں، اگر تم اللہ کے راستہ میں مارے جاؤ، اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader