اسلامی معاشرہ
Urdu book, p. 123
By Maulana Wahiduddin Khan
حال میں کہ تم صبر کرنے والے اور خالص اللہ کے لئے لڑنے والے ہو۔ آگے بڑھنے والے ہو پیچھے ہٹنے والے نہیں ہو تو تم بخش دئے جاؤ گے۔ کچھ دیر کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ پوچھا تم نے کس طرح کہا تھا۔ اس نے اپنے سوال کو دہرایا۔ آپ نے دوبارہ اپنے جواب کو دہراتے ہوئے کہا : ہاں ، اگر تم اللہ کے راستہ میں مارے جاؤ ، اس حال میں کہ تم صبر کرنے والے اور خالص اللہ کے لئے لڑنے والے ہو ، آگے بڑھنے والے ہو پیچھے ہٹنے والے نہیں ہو تو تم بخش دئے جاؤ گے۔ لیکن اگر تمہارے اوپر قرض ہے تو اس کی بخشش نہ ہوگی۔ کیونکہ ابھی جبریل نے مجھ کو یہ بتایا ہے (الاالدين فان جبريل قال لى ذالك ، مسلم) اس سے معلوم ہوا کہ اسلامی سماج میں ہر آدمی بے حد محتاط ہوتا ہے کہ اس کے ذمہ کسی کا قرض یا حقوق باقی نہ رہ جائیں۔ ایک مسلمان کا ذہن یہ ہوتا ہے کہ دین کی راہ میں خواہ میں کتنی ہی بڑی قربانی کروں مگر اللہ کی نظر میں میری قیمت اسی وقت ہوگی جب کہ میں اللہ سے اس طرح ملوں کہ میں نے کسی کا حق نہ دبایا ہو ، میرے ذمہ لوگوں کے مطالبات نہ ہوں۔ اگر میرے ذمہ کسی انسان کا حق ہے اور میں اس کو ادا نہیں کرتا تو دین کی راہ میں میرا جان دے دینا بھی مجھ کو آخرت میں نجات نہ دے سکے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگو صدقہ کرو۔ ایک شخص نے پوچھا: اے خدا کے رسول اگر آدمی کے پاس مال نہ ہو۔ آپ نے فرمایا کہ پھر وہ لوگوں سے بھلی بات کہے ۔ کیوں کہ وہ بھی صدقہ ہے۔ آدمی نے دوبارہ پوچھا : اے خدا کے رسول اگر اس کے پاس بھلی بات بھی نہ ہو۔ آپ نے فرمایا : پھر وہ دوسروں کو اپنے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader