اسلامی معاشرہ
Urdu book, p. 124
By Maulana Wahiduddin Khan
شر سے بچائے (يدفع الناس من شره) اس سے معلوم ہوا کہ اسلامی سماج میں سب سے بہتر آدمی وہ ہے جو لوگوں کے لئے سب سے زیادہ نفع بخش ہو۔ اللہ نے اس کو جو کچھ دیا ہے اس میں سے وہ دوسروں کو دیتا رہے۔ اس کے قول و عمل سے دوسروں کو فائدہ پہنچے۔ اس کے بعد کم سے کم درجہ یہ ہے کہ آدمی اپنی ذات سے کسی کو نقصان نہ پہنچنے دے۔ اگر وہ دوسروں کو کچھ نہ دے سکے تو وہ دوسروں کو محروم بھی نہ کرے۔ اگر وہ دوسروں کے کام نہ آئے تو دوسروں کے کام بگاڑنے کی کوشش بھی نہ کرے۔ اگر دوسروں کے لئے اس کے پاس میٹھے بول نہ ہوں تو وہ ان کو کڑوا بول بھی نہ دے۔ امام مالک نے موطامیں روایت کیا ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: مجھے ایسی بات بتائیے جس کے ساتھ میں جیوں (یا رسول الله علمنی کلمات اعیش بھن) آپ نے فرمایا غصہ نہ کر (لا تغضب) اس سے معلوم ہو اکه اسلامی سماج مثبت نفسیات رکھنے والوں کا سماج ہے۔ اس کے افراد ہر قسم کی منفی نفسیات سے پاک ہوتے ہیں۔ غصہ ہر قسم کی منفی نفسیات کی جڑ ہے۔ "غصہ نہ کرہ " کا مطلب یہ ہے کہ منفی نفسیات میں نہ جیو بلکہ مثبت نفسیات میں جیو۔ دوسروں کی طرف سے اشتعال انگیزی ہو یا دوسروں سے تم کو تکلیف پہنچے تو اس کا جواب تم غصہ، نفرت، انتقام، حسد اور حقارت جیسے جذبات سے نہ دو بلکہ محبت، انصاف، خیر خواہی اور عفو و درگزر کا طریقہ اختیار کرو۔ جب بھی کوئی معاملہ پیش آئے تو ٹھنڈے دل سے سوچو اور صرف وہ کرو جو اللہ کی رضا کے اعتبار سے سب سے بہتر ہو نہ کہ وہ جس سے تمہارے بھڑکتے ہوئے جذبات کو تسکین مل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader