Urdu book · اسلامی تعلیمات

اسلامی معاشرہ

Urdu book, p. 125

By Maulana Wahiduddin Khan

رہی ہو۔ کسی کے خلاف تمہاری جوابی کارروائی نہ ہو بلکہ اللہ کی جواب دہی کو سامنے رکھتے ہوئے ایک سوچی سمجھی کارروائی ہو۔ تمہاری غذا غصہ اور نفرت اور انتقام نہ ہو، بلکہ برداشت کرنا اور معاف کر دینا ہو۔ تم غصہ نہ کرنے میں جیو، نفرت نہ کرنے میں جیو، انتقام نہ لینے میں جیو، حسد نہ کرنے میں جیو۔ اسلامی معاشرہ میں جب ایک شخص دوسروں سے انصاف کرتا ہے اور ان کے حقوق ادا کرتا ہے تو یہ اس کے لئے عام معنوں میں محض ایک اخلاقی یا انسانی معاملہ نہیں ہوتا۔ یہ اس کے لئے ایسا مسئلہ ہوتا ہے جس پر آخرت میں اس کی نجات کا انحصار ہو۔ جو شخص بندوں کے ساتھ بہتر سلوک کرے دہی آخرت میں اس قابل ٹھہرے گا کہ خدا اس کے ساتھ بہتر سلوک کرے۔ اور جو شخص دوسرے انسانوں کے ساتھ بہتر سلوک نہ کرے اس کے لئے آخرت میں خدا کی رحمتوں میں کوئی حصہ نہیں۔ یہی دنیا کی زندگی میں آدمی کا امتحان ہے اور یہ امتحان خاص طور پر کمزور اور بے سہارا انسانوں کے بارہ میں لیا جاتا ہے۔ کیوں کہ ایسے افراد کے ساتھ بہتر سلوک کے لئے خدا کی رضا کے سوا اور کوئی محرک نہیں ہوتا۔ آدمی جب طاقت ور کے ساتھ بہتر سلوک کرے تو اس میں یہ امید شامل رہتی ہے کہ دوسرے شخص کی طرف سے کسی نہ کسی صورت میں اس کا بدلہ ملے گا۔ اسی طرح جب کسی عوامی موقع پر آدمی انسانیت دوستی کا ثبوت دیتا ہے تو اس میں بھی یہ امید ہوتی ہے کہ اس سے آدمی کی شہرت و عزت میں اضافہ ہوگا۔ مگر جب ایک تنہا اور بے زور آدمی اس کے سامنے ہو اور اس سے مدد کی درخواست کرے تو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page