Urdu book · اسلامی تعلیمات

تنظیم

Urdu book, p. 129

By Maulana Wahiduddin Khan

یہی معاملہ انسانی زندگی کا بھی ہے۔ جو قوم آسمانی کتاب کی حامل ہو اس کے لئے اللہ تعالیٰ کا مخصوص ضابطہ ہے۔ ایسی قوم کس طرح زمین میں جڑ پکڑتی ہے اور دنیا و آخرت میں فلاح حاصل کرتی ہے ، اس کا ضابطہ مذکورہ آیت میں بیان کر دیا گیا ہے۔ اسی قرآنی ضابطہ کو یہاں سواد السبیل کہا گیا ہے۔ سواد السبیل (اللہ تک پہنچنے کا سیدھا راستہ) یہ ہے کہ آدمی دنیا میں ایک قسم کی پابند زندگی گزارے۔ وہ اس طرح رہے گو یا کہ وہ خدا کے عہد کی رسی میں بندھا ہوا ہے۔ اس عہد کی زندگی کی پہلی شرط، ایمان کے بعد، یہ ہے کہ آدمی نماز قائم کرے ۔ یعنی اللہ کے آگے اپنے کو جھکا دے ، وہ اللہ کی قربت تلاش کرنے والا بن جائے ۔ پھر وہ زکوٰۃ ادا کرے۔ یعنی وہ دوسرے بندوں کا اس حد تک خیر خواہ ہو کہ اپنی کمائی میں ان کا لازمی حق سمجھنے لگے۔ پھر یہ کہ اللہ کے دین کی دعوت کے معاملہ میں وہ غیر جانب دار نہ رہے، بلکہ اس میں اپنے آپ کو پوری طرح شامل کرے۔ وہ داعیان دین کی مدد کرے۔ اپنے بہترین اثاثہ کو اس کام کو موثر اور طاقت ور بنانے میں لگا دے۔ یہی وہ عہد کی زندگی ہے جو ہر فرد مسلم سے مطلوب ہے، اس زندگی کو اختیار کئے بغیر کوئی شخص خدا کی قربت و معیت حاصل نہیں کر سکتا ورنہ اس قابل قرار پاسکتا کہ خدا اس کی مدد کرے۔ اس خدا پرستانہ زندگی کو اس کی صحیح صورت میں باقی رکھنے کے لئے تنظیم کا حکم دیا گیا ہے۔ ہر مسلم معاشرہ کے اوپر خدا کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اپنے درمیان سمع و طاعت کا نظام قائم کرے ۔ یعنی وہ اپنے اندر سے کچھ لوگوں کو اپنا سر براہ مقرر کر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page