تنظیم
Urdu book, p. 130
By Maulana Wahiduddin Khan
کرے ۔ اور جب ان کا تقرر ہو جائے تو ذاتی پسند و ناپسند کو نظر انداز کر کے وہ ان کی اطاعت کرے ۔ نماز کی باقاعدہ اقامت ، زکوٰۃ کی اجتماعی وصولی اور تقسیم ، دعوت دین کا عمومی نظام ، سب اسی وقت بہتر طور پر ادا ہو سکتے ہیں جب کہ مسلمانوں کے درمیان اجتماعی نظم قائم ہو ، ان میں کچھ ایسے لوگ مقرر ہوں جو اس کی نگرانی کریں اور تمام لوگ اس کو ایک دینی فریضہ سمجھ کر اپنے سربراہ ہوں کی اطاعت کریں ۔ اس تنظیم سے مراد حکومتی تنظیم نہیں ہے بلکہ وہ تنظیم ہے جو ہر حال میں مسلمانوں کے اپنے بس میں ہے ، خواہ ان کے پاس سیاسی اقتدار ہو یا نہ ہو ۔ اسلامی تنظیم حقیقتاً ایک عبادت ہے اور عبادت وہی مطلوب اور نتیجہ خیز ہے جو اختیاری طور پر ہو نہ کہ کسی خارجی دباؤ کے تحت ۔ اسلامی تنظیم در اصل اس بات کی ایک دنیوی علامت ہے کہ آدمی نے اپنے آپ کو خدا کے حکم کے حوالے کر دیا ہے ۔ اسلامی تنظیم میں اپنے کو باندھنا گویا خدائی اطاعت کے امتحان میں پورا اترنا ہے اور اسلامی تنظیم میں بندھنے کے لئے تیار نہ ہونا گو یا اس خدائی امتحان میں ناکام ہو جانا ہے ۔ مزید یہ کہ سیاسی اقتدار بذات خود تنظیم کے وجود کا ضامن نہیں ہے حضرت عثمان رض اور حضرت علی رض کے زمانہ میں حکومتی اقتدار موجود تھا ، اس کے باوجود مسلمانوں کی تنظیم منتشر ہو گئی ۔ اسی طرح بعد کے دور میں بھی اس مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی تنظیم سے مراد ویسی ہی ایک اختیاری تنظیم ہے جیسی کہ مسجد میں امام کی سربراہی میں نماز کی جماعت بندی کے لئے ہر روز ہوتی ہے ۔ یہ اللہ کی خاطر اپنی آزادی پر پابندی لگانا ہے ۔ یہ تمام تر ایک اختیاری تنظیم ہے اور اس کا ثواب کسی آدمی کو صرف اس وقت ملے گا جب کہ اس نے اپنے آزاد ارادہ سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader