Urdu book · اسلامی تعلیمات

تنظیم

Urdu book, p. 131

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کی ماتحتی قبول کی ہو۔ جبر کے تحت قائم شدہ تنظیم بعض دنیوی فائدے دے سکتی ہے مگر وہ آدمی کو خدا کے یہاں ثواب کا مستحق نہیں بناتی، نہ اس سے وہ برکتیں ظاہر ہوسکتی ہیں جو حقیقی اسلامی تنظیم کے لئے خدا نے مقدر کی ہیں۔ دور نبوت میں اس قسم کی تنظیم کی ایک مثال وہ ہے جو ابتدائی زمانہ میں مدینہ میں اختیار کی گئی۔ ہجرت سے پہلے مدینہ کے ۷۳ آدمی مکہ پہنچے اور آپ سے بیعت ہوئے ۔ اس وقت مدینہ میں اسلامی حکومت قائم نہیں ہوئی تھی ۔ مگر آپ نے بیعت کے بعد ان سے کہا کہ تم لوگ بارہ آدمی منتخب کرو جن کو میں تمہارے اوپر نقیب (نگراں) بنا دوں ۔ چنانچہ انھوں نے اپنے اندر سے بارہ آدمی چنے ۔ آپ نے ان کو مدینہ کے مسلمانوں پر نگراں مقرر فرمایا اور کہا کہ تم اپنی قوم کی اجتماعی دیکھ بھال کے ذمہ دار ہو ( انتم کفلاء علی قومکم ) مسلمان عرب سے نکل کر جب مختلف ملکوں میں گئے تو اسی طرح وہ اپنی تنظیم بنا کر اس کی ماتحتی میں منظم زندگی گزارتے رہے۔ جب تک انھوں نے ایسا کیا ان کے اوپر خدا کا سایہ باقی رہا۔ جب انھوں نے تنظیمی پابندی قبول کرنے سے انکار کر دیا تو خدا کا سایہ بھی ان کے اوپر سے اٹھ گیا۔ اور حکومتی اقتدار کے باوجود وہ دوسری قوموں کے حوالے کر دئیے گئے۔ جو لوگ اپنے آزاد ارادہ سے اپنے کو ایک اسلامی تنظیم کا پابند کر لیں وہ اس بات کا ثبوت دیتے ہیں کہ وہ بے نفس لوگ ہیں، انھوں نے اللہ کی خاطر اپنی انسانیت کو ختم کر دیا ہے۔ اس طرح اپنے آپ کو بے نفس بنا لینا موجودہ دنیا کی سب سے بڑی نیکی ہے۔ اللہ کی نظر میں جو لوگ اس معیار پر پورے اتریں ان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page