Urdu book · اسلامی تعلیمات

تنظیم

Urdu book, p. 132

By Maulana Wahiduddin Khan

کے لئے وہ اپنی ہر قسم کی نعمتیں انڈیل دیتا ہے ، وہ دنیا میں بھی عزت اور غلبہ حاصل کرتے ہیں اور آخرت کی سرخروئی بھی ان کے لئے مقدر کر دی جاتی ہے۔ جو لوگ بے نفسی کی حد تک خدا کے فرماں بردار بن جائیں ان کے سامنے جب کوئی صحیح بات آتی ہے تو وہ فوراً اُس کو مان لیتے ہیں۔ ان کا باہمی اتحاد کبھی نہیں ٹوٹتا۔ وہ انصاف کے راستہ کو کبھی نہیں چھوڑتے۔ ان کی بے نفسی ان کو ہر اس چیز کی طرف بڑھنے سے روک دیتی ہے جو دنیا و آخرت میں برباد کرنے والی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا و آخرت کی تمام بھلائیوں کا راز بے نفسی ہے۔ اور کوئی آدمی بے نفس بنا ہے یا نہیں ، اس کا سب سے بڑا ثبوت تنظیم کے ذریعہ ملتا ہے۔ تنظیمی زندگی میں اپنے آپ کو باندھنا اس کے بغیر نہیں ہو سکتا کہ آدمی نفسانی محرکات سے اوپر اٹھ گیا ہو۔ وہ تنقید اور تعریف سے بلند ہو۔ وہ اختلاف اور اتفاق کی بنیاد پر کسی کے بارے میں رائے قائم نہ کرتا ہو۔ اس کا رویہ پسند ناپسند کی بنیاد پر نہ بنتا ہو۔ وہ اس سے بے نیاز ہو چکا ہو کہ اس کو کیا ملا اور کیا نہیں ملا۔ تنظیمی زندگی میں اس طرح کے مواقع بار بار آتے ہیں۔ اگر آدمی ان چیزوں سے اوپر اٹھا ہوا نہ ہو تو وہ اسی قسم کی باتوں میں الجھ کر رہ جائے گا اور تنظیم کی پابندی کو قبول کرنے میں ناکام رہے گا۔ اللہ کے مومن بندوں پر اللہ کی دو سب سے بڑی نعمتیں نازل ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ خدا کی نصرت کے مستحق بن جاتے ہیں ، وہ دنیا میں اپنے مخالفین کے مقابلہ میں خدا کی مدد سے غالب آتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ موت کے بعد وہ جہنم سے بچا کر جنت میں داخل کر دئے جاتے ہیں۔ اللہ کی یہ دونوں نعمتیں صرف ان لوگوں کے لئے ہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page