تنظیم
Urdu book, p. 133
By Maulana Wahiduddin Khan
جو اللہ کی خاطر اپنی انفرادیت کو ختم کر کے اجتماعیت کے بندھن میں بندھ جائیں۔ اور اس کے تحت اپنی دینی اور اخلاقی زندگی کو منظم کریں۔ جو لوگ اپنے آپ کو اللہ میں اس طرح شامل کر لیں کہ اپنی انفرادیت کو وہ اس کے حوالے کر دیں ، ان کی طاقت بے پناہ ہو جاتی ہے۔ کیوں کہ ان کے درمیان وہ تمام اسباب بالکل ختم ہو جاتے ہیں جو ایک کو دوسرے سے جدا کرنے والے ہیں۔ اجتماعیت کو توڑنے والی چیز انفرادیت پر اصرار ہے۔ اور اپنی انفرادیت کو اللہ کے حوالے کر کے پہلے ہی وہ اس سے اوپر اٹھ چکے ہیں۔ ایسے لوگوں کا پورا گرہ وہ ایک متحدہ طاقت میں ڈھل جاتا ہے۔ اور جہاں اتحاد ہو وہاں مغلوبیت کا گز ر نہیں۔ اسلام سے پہلے عرب میں قبائلی دور تھا۔ یہ قبیلے الگ الگ آباد تھے۔ ان کے درمیان وحشت کا راج تھا۔ وہ اکثر ایک دوسرے کے خلاف لڑتے رہتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ جب ان کو خدا کے دین کی دعوت پہنچی تو وہ اسلام کے دائرہ میں داخل ہو گئے ۔ اس کے بعد ان کی آپس کی لڑائیاں ختم ہو گئیں۔ وہ آپس میں بھائی بھائی کی طرح مل کر رہنے لگے۔ اس کی وجہ مزاج کا فرق ہے۔ غیر اسلام میں ہر آدمی اپنا وفادار رہتا ہے۔ اور اسلام میں صرف ایک اللہ کا۔ جس سماج میں لوگ اپنے یا اپنے گروہ کے وفادار ہوں، وہاں قدرتی طور پر کئی وفاد داریاں وجود میں آتی ہیں۔ اور کئی وفادار یوں کے عملی نتیجہ ہی کا نام اختلاف اور انتشار ہے۔ اس کے بر عکس جس معاشرہ میں تمام لوگ ایک خدا کے وفادار بن جائیں، دھاں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader