Urdu book · اسلامی تعلیمات

اسلام کی آفاقیت

Urdu book, p. 139

By Maulana Wahiduddin Khan

کوئی کار نامہ لکھا نہ جا سکا۔ اسلام سے پہلے عربوں کا حال یہ تھا کہ وہ شاعری کرتے تھے ۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر آپس میں لڑ جاتے تھے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا کہ ان کے درمیان ایک لڑائی چھڑتی تو وہ نسل در نسل سیکڑوں سال تک جاری رہتی ۔ محدود دائرہ سے باہر اس وقت ان کی کوئی زندگی نہ تھی۔ مگر یہی عرب تھے کہ جب اسلام کے زیر اثر ان کے اندر فکری انقلاب آیا تو انہوں نے ایک عالمی تہذیب کی بنیاد ڈالی۔ وہ اپنے محدود جغرافیہ سے نکل کر سارے عالم میں پھیل گئے ۔ جو لوگ اس سے پہلے نا قابل ذکر سمجھے جاتے تھے انہوں نے تمام قابل ذکر علوم میں اپنے وقت کی سب سے بڑی ترقیات کیں۔ عربی زبان جو اس سے پہلے صرف ایک مقامی بولی کی حیثیت رکھتی تھی وہ ایک بین اقوامی زبان بن گئی۔ تنگ دنیا میں جینے والے وسیع تر دنیا کے مالک بن گئے ۔ اس کی وجہ اسلام کی آفاقیت اور عالمگیر یت تھی۔ اسلام نے ان کے بند ذہن کو کھول دیا۔ وہ پنچر کو پوجتے تھے ، اسلام نے بتایا کہ پنچر مخلوق ہے اور بے بس ہے ۔ پوجنے کے قابل تو صرف خدا کی ذات ہے۔ جو تنہا را را اور تمام دنیا کا مالک ہے ۔ اس سے ان کے اندر یہ ذہن پیدا ہوا کہ پنچر جھکنے کی چیز نہیں ہے بلکہ ایسی چیز ہے جس کو جھکایا جائے، جس کی تحقیق اور تسخیر کی جائے۔ وہ انسان کو عرب اور عجم ، کالے اور گورے ، آزاد اور غلام ، اونچی نسل اور نیچی نسل میں بانٹے ہوتے تھے۔ اسلام نے ان پر کھولا کہ تمام انسان ایک خدا کے بندے اور ایک آدم کی اولاد ہیں ، ایک انسان اور دوسرے انسان میں کوئی فرق نہیں۔ اس سے ان کے اندر رود عالمی اور آفاقی ذہن پیدا ہوا جس نے پوری دنیا کو اپنا وطن اور ساری انسانیت کو اپنا کنبہ سمجھ لیا۔ اسلام سے پہلے وہ دنیا سے الگ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page