اسلام کی آفاقیت
Urdu book, p. 140
By Maulana Wahiduddin Khan
تھلک ہورہے تھے۔ اسلام کے بعد وہ ساری دنیا کے شریک اور ساتھی بن گئے۔ اسلام سے پہلے عرب کے لوگ قبائلی دور میں جی رہے تھے ، اسلام کی بنیاد پر جب ان کے یہاں فکری انقلاب آیا تو اس نے ان کو ایک بین اقوامی گروہ بنا دیا۔ اس سے پہلے ان کی نظر چھوٹے چھوٹے مقاصد تک محدود تھی ، اسلام کے بعد ان کی نگاہ میں اتنی وسعت پیدا ہوئی کہ وہ خشکی اور تری کو پار کر کے ساری دنیا تک وسیع ہوگئی۔ اسلام سے پہلے وہ کسی کو حقیر اور کسی کو معزز سمجھتے تھے ، اسلام کے بعد تمام انسانی نسل یکساں طور پر ان کی نظر میں معزز اور محترم بن گئی۔ اس کے بعد کوئی پہاڑ نہ رہا جو ان کی نظر کو روکے اور کوئی سمندر نہ رہا جو ان کے سفر میں حائل ہو۔ اسلام نے عربوں کے اندر جب آفاقیت پیدا کی تو ان کا یہ حال ہوا کہ قبیلہ کی سرداری پر فخر کرنے والے لوگ عالم کے امام بن گئے۔ ان کے اندر ابن سینا اور الرازی جیسے ماہرین طب پیدا ہوئے جن کی طبی کتابوں کے یورپ کی زبان دلاتینی میں ترجمے ہوئے اور یورپ کے میڈیکل کالجوں میں وہ بطور نصاب داخل کی گئیں۔ ان میں الادریسی جیسا جغرافیہ داں پیدا ہوا جس نے سسلی کے بادشاہ راجر دوم کے لئے سب سے پہلا دنیا کا نقشہ بنایا۔ ان میں ایسے ماہرین صنعت پیدا ہوئے کہ انگلینڈ کے بادشاہ او فار کس نے اپنے یہاں سونے کا سکہ ڈھالنے کے لئے بغداد سے سکہ گر بلائے۔ انھوں نے فن جہازرانی میں اتنی ترقی کی کہ ان کے یہاں احمد بن ماجد جیسا شخص پیدا ہوا جس نے واسکو ڈی گاما کی بحری رہنمائی کی جو پندرھویں صدی عیسوی کے آخر میں یورپ اور ہندوستان کے درمیان سمندری راستہ دریافت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader