اسلام کی آفاقیت
Urdu book, p. 141
By Maulana Wahiduddin Khan
کرنے کے لئے نکلا تھا۔ ان کے یہاں ابو عبیدہ مسلم البلسی جیسے زمینی علوم کے ماہر پیدا ہوئے جن کی تحقیقات کو پڑھ کر کولمبس کے اندر یہ خیال پیدا ہوا کہ یہاں کچھ اور بھی دنیا ئیں ہیں جن کو اسے دریافت کرنا چاہئے۔ چنانچہ اسی شعور اور حوصلہ کے تحت وہ یورپ کے ساحل سے روانہ ہوا اور آخر کار نئی دنیا (امریکہ ) کو دریافت کیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام ایک کائناتی دین اور ایک آفاقی نظریہ ہے۔ اور اسلام کی بنیاد پر بننے والی تاریخ اس کی تائید کرتی ہے۔ اسلام کی آفاقیت صرف نظریاتی چیز نہیں، وہ ایک ثابت شدہ تاریخی حقیقت ہے ۔ یہ ایسے اصول ہیں جو پوری طرح عمل کی صورت میں ڈھل چکے ہیں۔ اسلام کے آفاقی اصولوں کا بہت اچھا اظہار اس واقعہ میں ہوتا ہے جس کا تعلق ربعی بن عامرؓ اور رستم (ایرانی سردار ) سے ہے۔ عرب جب قدیم ایران میں داخل ہوئے اور ایرانوں کو ہر جگہ ان کے مقابلہ میں شکست کھانی پڑی ، تو رستم نے گفت و شنید کے لئے اسلامی وفود کو اپنے یہاں آنے کی دعوت دی ۔ اس وقت جو لوگ رستم اور شاہ ایران کے دربار میں گئے ، ان میں سے ایک ربعی بن عامر تھے۔ ربعی بن عامر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ رستم کے دربار میں پہنچے۔ رستم اس وقت ایرانی افواج کا سپہ سالار تھا۔ وہ اپنے شاندار دربار میں سونے اور جو اہرات کا تاج پہنے ہوئے عالی شان تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ اور ربعی بن عامر رض معمولی کپڑے اور معمولی حالت میں تھے۔ رستم نے پوچھا کہ تم لوگ ہمارے ملک میں کیوں آئے۔ ربعی بن عامر رض نے جواب دیا : الله ابتعثنا و الله جاء بنا لنخرج من شاء من عبادة العباد الى عبادة

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader