Urdu book · اسلامی تعلیمات

بنیادی مسئلہ

Urdu book, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

دل چسپیوں میں بھی وہ اپنا وقت ضائع کر رہا ہے ۔ اس فصل کی تیاری کی مدت اس وقت تک ہے جب تک ہم کو موت نہیں آجاتی ۔ موت آخرت کی فصل کاٹنے کا دن ہے ۔ جب اس دنیا میں ہماری آنکھ بند ہوگی تو دوسری دنیا میں ہماری آنکھ کھلے گی ۔ وہاں ہماری عمر بھر کی تیار کی ہوئی کھیتی ہمارے سامنے ہوگی ۔ یاد رکھیے کاٹنے کے دن وہی کاٹتا ہے جس نے کاٹنے سے پہلے کھیتی کی ہو اور وہی چیز کاٹتا ہے جو اس نے اپنے کھیت میں بوئی تھی ۔ اسی طرح آخرت میں ہر شخص کو وہی فصل ملے گی جو اس نے موت سے پہلے تیار کی ہے ۔ ہر کسان جانتا ہے کہ اس کے گھر میں ٹھیک اتنا ہی غلہ آئے گا جتنی اس نے محنت کی ہے اور وہی چیز آئے گی جو اس نے بوئی تھی ۔ اسی طرح آخرت میں بھی آدمی کو اسی کے قدر ملے گا جتنی اس نے جدوجہد کی ہے اور وہی کچھ ملے گا جس کے لیے اس نے کوشش کی ہو ۔ موت کوشش کی مدت ختم ہونے کا آخری اعلان ہے اور آخرت اپنی کوششوں کا انجام پانے کی آخری جگہ ۔ موت کے بعد نہ دوبارہ کوشش کرنے کا موقع ہے اور نہ آخرت کبھی ختم ہونے والی ہے ۔ کتنا سنگین ہے یہ واقعہ ۔ کاش انسان موت سے پہلے اس حقیقت کو سمجھ لے کیوں کہ موت کے بعد سمجھنا کچھ بھی کام نہ آئے گا ۔ موت کے بعد ہوشیار ہونے کے معنی صرف یہ ہیں کہ آدمی اس بات پر افسوس کرے کہ اس نے ماضی میں کتنی بڑی غلطی کی ہے ۔ ایک ایسی غلطی جس کی اب کوئی تلافی نہیں ہوسکتی ۔ انسان اپنے انجام سے غافل ہے حالاں کہ زمانہ اس کو نہایت تیزی سے اس وقت کی طرف لیے جا رہا ہے جب فصل کٹنے کا وقت آجائے گا ۔ وہ دنیا کے حقیر فائدوں کو حاصل کرنے میں مصروف ہے اور سمجھتا ہے کہ میں کام کر رہا ہوں ۔ حالاں کہ دراصل وہ اپنے قیمتی اوقات کو ضائع کر رہا ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page