Urdu book · اسلامی تعلیمات

عقیدہ خدا

Urdu book, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

ذریعہ ایک عجیب و غریب انسان بنتا ہے، جو چلتا ہے، جو پکڑتا ہے، جو دیکھتا ہے، جو سنتا ہے، جو سونگھتا ہے، جو چکھتا ہے، جو سوچتا ہے، جو یاد رکھتا ہے، جو معلومات جمع کرکے ان کو مرتب کرتا ہے، جو لکھتا اور بولتا ہے۔ مردہ مادہ سے اس قسم کے ایک حیرت ناک وجود کا بن جانا ایک ایسا انوکھا واقعہ ہے کہ معجزہ کا لفظ بھی اس کے اعجاز کو بتانے کے لئے کافی نہیں۔ اگر کوئی شخص کہے کہ میں نے مٹی کو بولتے ہوئے سنا ہے اور پتھر کو چلتے ہوئے دیکھا ہے تو لوگ حیران ہو کر رہ جائیں گے۔ مگر یہ انسان جو چلتا پھرتا ہے جو بولتا اور دیکھتا ہے آخر مٹی پتھر ہی تو ہے۔ اس کے اجزا د وہی ہیں جو مٹی اور پتھر کے ہوتے ہیں۔ مٹی اور پتھر کے بولنے اور دیکھنے کی خبر کو ہم جس طرح عجیب سمجھیں گے اسی طرح بلکہ اس سے زیادہ تعجب ہم کو اس مخلوق پر ہونا چاہئے جس کو انسان کہا جاتا ہے۔ بے جان مادہ میں اس قسم کی زندگی اور شعور پیدا ہو جانا کیا اس بات کا ثبوت نہیں کہ یہاں ایک برتر ہستی ہے جس نے اپنی خصوصی قدرت سے یہ عجیب و غریب معجزہ رونما کیا ہے۔ انسان اگر خود اپنے اوپر غور کرے تو بہ آسانی وہ خدا کی حقیقت کو سمجھ سکتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کی صورت میں ایک ”میں“ زمین پر موجود ہے۔ اس کی اپنی ایک مستقل ہستی ہے۔ وہ دوسری چیزوں سے الگ اپنا ایک وجود رکھتا ہے۔ یہ ”میں“ بلا اشتباہ یقین رکھتا ہے کہ وہ ہے۔ وہ سوچتا ہے اور رائے قائم کرتا ہے۔ وہ ارادہ کرتا ہے اور اس کو بالفعل نافذ کرتا ہے۔ وہ اپنے فیصلے کے تحت کہیں ایک رویہ اور کہیں دوسرا رویہ اختیار کرتا ہے۔ یہی شخصیت اور قوت جس کا ایک آدمی اپنی ”میں“ کی سطح پر ہر وقت تجربہ کر رہا ہے یہی ”میں“ اگر خدا کی صورت میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page