Urdu book · اسلامی تعلیمات

رسالت

Urdu book, p. 51

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ اتنی صحیح بات وہی کہہ سکتا ہے جو خدا کی طرف سے بول رہا ہو۔ پیغمبر یہ بتاتا ہے کہ انسان کے لئے راہِ عمل یہ ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کرے۔ عبادت کا مطلب ہے اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دینا۔ اسی سے ڈرنا اور اسی سے محبت کرنا۔ اللہ ہی کو اپنا سب کچھ بنا لینا۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ایک ایسا وجود ہے جو اپنی توجہیات کا ایک مرکز چاہتا ہے۔ اس کو کوئی ایسا نقطہ درکار ہے جس کے اوپر وہ اپنی سوچ اور اپنے جذبات کو مرتکز کر سکے۔ یہ انسان کی ایسی ضرورت ہے جس سے وہ کسی حال میں خالی نہیں ہو سکتا اور نہ کوئی ایسا شخص موجود ہے جو اس سے خالی ہو۔ کسی کا مرکزِ توجہ اس کے بیوی بچے ہیں۔ کسی کا مرکز اس کا قبیلہ اور برادری ہے۔ کسی کا مرکز توجہ قوم اور وطن ہے۔ کوئی دولت کو اور کوئی اقتدار کو اپنا مرکز توجہ بنائے ہوئے ہے۔ مگر ان میں سے کوئی بھی چیز نہیں جو حقیقۃً اس قابل ہو کہ انسان اس کو اپنا مرکزِ توجہ بنائے۔ یہ چیزیں آدمی کے فطری جذبہ کا انحراف ہیں نہ کہ آدمی کے فطری جذبہ کا استعمال۔ مرکزِ توجہ بننے کے قابل وہ ہو سکتا ہے جو انسان کو سہارا دے سکے۔ جو زندگی کے انجام کو بہتر بنانے میں انسان کی مدد کر سکتا ہو۔ مگر ان میں سے کسی چیز کو بھی یہ طاقت حاصل نہیں۔ یہ تمام چیزیں خود ہی دوسروں کی محتاج ہیں۔ پھر وہ کسی دوسرے کی کیا مدد کر سکتی ہیں۔ پھر مرکزِ توجہ بننے کے قابل وہ ہے جس کو بیک وقت سارے انسان مرکزِ توجہ بنائیں اور اس کے با وجود معاشرہ میں کوئی بگاڑ پیدا نہ ہو۔ مگر ان میں سے ہر چیز کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ وہ تمام چیزیں جن کو آدمی عام طور پر مرکزِ توجہ بناتا ہے وہ محدود ہیں۔ ایک آدمی کا انھیں پانا ہمیشہ دوسرے آدمی کی محرومی کی قیمت پر ہوتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page