رسالت
Urdu book, p. 52
By Maulana Wahiduddin Khan
یہی وجہ ہے کہ سماج میں مستقل چھین جھپٹ جاری رہتی ہے۔ ایک شخص جب پاتا ہے تو وہ دوسرے شخص سے چھین رہا ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے یہ صرف خدا ہی کی شان ہے کہ بیک وقت سارے انسان اس کو پانے کے لئے دوڑیں اور پھر بھی لوگوں میں کوئی ٹکراؤ پیدا نہ ہو۔ کیوں کہ خدا مادی چیزوں سے بلند ہے ، خدا ہر قسم کی محدودیت سے پاک ہے۔ انسانی سماج کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ خواہ کتنا ہی اچھا قانون بنایا جائے ، انسان اس سے بچنے کا راستہ تلاش کر لیتا ہے۔ کسی کے پاس طاقت ہے تو وہ طاقت کے بل پر دھاندلی کرتا ہے۔ کسی کے پاس دولت ہے تو وہ دولت کے ذریعہ انصاف کو خرید لیتا ہے۔ کسی کے پاس الفاظ ہیں تو وہ خوبصورت الفاظ کے ذریعہ اپنے ظلم کو انصاف ثابت کرتا ہے۔ غرض ہر ایک اپنے ناحق کو حق ظاہر کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی تدبیر پا لیتا ہے۔ مگر جب خدا کو درمیان میں کھڑا کر دیا جائے تو ہر آدمی محسوس کر لیتا ہے کہ اس کی تدبیریں بے معنی ہیں۔ تمام تدبیریں اسی وقت تک تدبیریں ہیں جب تک معاملہ انسان اور انسان کے درمیان ہو۔ جب معاملہ کو انسان اور خدا کا معاملہ بنا دیا جائے تو ہر آدمی مکمل طور پر سنجیدہ اور محتاط ہو جاتا ہے۔ کیونکہ خدا سے نہ کوئی بات چھپائی جاسکتی اور نہ وہاں کسی قسم کا زور چل سکتا۔ حقیقت یہ کہ خدا پرستی ہی واحد بنیاد ہے جس سے لوگوں میں قانون کے احترام کا جذبہ پیدا کیا جا سکتا ہے۔ اس کے سوا کوئی بنیاد نہیں جس سے یہ مقصد حاصل ہو سکے۔ دنیا میں صحیح نظام بنانے کے لئے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت پڑتی ہے وہ قربانی ہے۔ کہیں کسی کی رائے کے مقابلہ میں اپنی رائے کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ کہیں اپنے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader