Urdu book · اسلامی تعلیمات

رسالت

Urdu book, p. 53

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک کریڈیٹ کو دوسرے کے حوالے کرنے پر راضی ہونا پڑتا ہے۔ کہیں اپنے گھر والوں کے مفاد کے مقابلہ میں دوسروں کے مفاد کو ترجیح دینی پڑتی ہے۔ کہیں اپنی محنت سے کماتے ہوئے مال کو دوسروں کے حوالے کر دینا پڑتا ہے۔ کہیں ایک ایسے کام میں اپنی قوتیں کھپانے کا سوال ہوتا ہے جس میں بظاہر کچھ ملنے والا نہیں۔ جب تک افراد میں اس قسم کی قربانی کا مزاج نہ ہو حقیقی معنوں میں کسی درست نظام کا قائم ہونا ممکن نہیں۔ اس کے بغیر ہر آدمی اپنی بات پر اصرار کرے گا اور نتیجہ پورا سماج چھین جھپٹ کا سماج بن جائے گا۔ اگر یہی موجودہ دنیا سب کچھ ہو تو آدمی اس قسم کی قربانی کیوں کرے۔ یہی وجہ ہے کہ جس سماج میں خدا کو چھوڑ کر دوسری چیزوں کو مرکزِ توجہ بنایا جائے وہاں مستقل فساد برپا رہتا ہے۔ لوگ قربانی دینے پر تیار نہیں ہوتے اس لئے صالح ماحول بننے کی نوبت ہی نہیں آتی۔ مگر پیغمبر زندگی کے جس مقصد کی نشان دہی کرتا ہے اس میں یہ مسئلہ نہایت خوبی کے ساتھ حل ہو جاتا ہے۔ اب قربانی کرنے کے لئے بہت بڑا محرک مل جاتا ہے۔ اب انسان جان لیتا ہے کہ اس کی ہر قربانی کی اللہ کے یہاں بہت بڑی قیمت ہے جو مرنے کے بعد اس کو ابدی زندگی میں لوٹائی جائے گی۔ یہ ذہن انسانی سماج میں ہر قسم کے ظلم کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔ اور حق وانصاف کے لئے مضبوط ترین بنیاد فراہم کر دیتا ہے۔ اب ہر شخص اس قربانی کے لئے تیار ہو جاتا ہے جو ماحول کو صالح بنانے کے لئے ضروری ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جو دین لے کر آئے وہ وہی دین ہے جو خدا کے دوسرے پیغمبر لے کر آئے تھے۔ مگر دوسرے پیغمبروں کا دین ان کے بعد محفوظ نہ رہ سکا ان کے بعد ان کے دین کے ماننے والے اتنے طاقت ور ثابت نہ ہوسکے کہ ان کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page