آخرت
Urdu book, p. 61
By Maulana Wahiduddin Khan
میں آئے گا۔ معراج کے سفر میں ایک جگہ آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ کھیتی کاٹ رہے ہیں۔ وہ جنتی کھیتی کاٹتے ہیں اتنی ہی ان کی کھیتی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرشتہ سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں۔ آپ کو بتایا گیا کہ یہ خدا کی راہ میں جہاد کرنے والے لوگ ہیں۔ دنیا میں آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ کسی صورت حال میں کس قسم کا جواب دیتا ہے۔ پتھر کے ساتھ کوئی صورت حال پیش آئے تو وہ اس کے جواب میں کوئی رویہ ظاہر نہیں کرتا۔ مگر انسان ایک احساس اور شعور رکھنے والی مخلوق ہے۔ انسان کے ساتھ جب کوئی صورت حال پیش آتی ہے تو وہ اس کے اندر ہلچل پیدا کرتی ہے۔ وہ اس کے جواب میں اپنے ہاتھ یا زبان سے کوئی رد عمل ظاہر کرتا ہے۔ اسی میں آدمی کا اصل امتحان ہے۔ ہر ایسے موقع پر خدا یہ دیکھتا ہے کہ آدمی نے اپنے فکر و عمل کی آزادی کو کس رخ پر استعمال کیا۔ اس نے گالی کے جواب میں گالی دی یا گالی کے جواب میں اس کی زبان سے دعائیں نکلیں۔ ہر صورت حال جو دنیا میں آدمی کے ساتھ پیش آتی ہے اس کے جواب کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک جہنمی جواب ، دوسرا جنتی جواب۔ جہنمی جواب وہ ہے جو اللہ کی مرضی کے مطابق نہیں ہے اور جنتی وہ ہے جو اللہ کی مرضی کے مطابق ہے۔ دوسرے لفظوں میں ایک جواب وہ ہے جو شیطانی اخلاقیات کے مطابق ہو، ایسے لوگ جہنم کے مستحق قرار پائیں گے۔ دوسرا جواب دہ ہے جو خدائی اخلاقیات کے مطابق ہو، ایسے لوگ جنت کے لطیف ماحول میں بسائے جائیں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader