Urdu book · اسلامی تعلیمات

آخرت

Urdu book, p. 62

By Maulana Wahiduddin Khan

شیطانی اخلاقیات یہ ہے کہ جب کوئی ناخوش گوار صورت حال پیش آئے تو آدمی بے خوف ہو کر جوابی کارروائی کرنے لگے۔ وہ نفرت کا جواب نفرت سے دے اور غصہ کے مقابلہ میں غصہ کا تحفہ پیش کرے۔ اس کے برعکس خدائی اخلاقیات یہ ہے کہ آدمی اللہ سے ڈرے۔ وہ وقتی جذبات سے اوپر اٹھ کر سوچ کر اور نفرت اور محبت کی نفسیات سے بلند ہو کر معاملہ کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے میرے رب نے حکم دیا ہے کہ جو مجھ سے کٹے میں اس سے جڑوں ، جو مجھے کو محروم کرے میں اس کو دوں، جو مجھ پر ظلم کرے میں اس کو معاف کردوں ( وان اصل من قطعنی واعطی من حرمتی، وا عفو عن ظلمتی) اس طرح کے مختلف احکام ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن سے یہ مطلوب ہے کہ وہ لوگوں کے سلوک سے بالاتر ہو کر ان کے ساتھ معاملہ کرے ۔ وہ منفی نفسیات کے مواقع پر مثبت نفسیات ظاہر کرے ۔ لوگوں کے درمیان زندگی گزارتے ہوئے بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ناخوش گوار واقعات پیش آتے ہیں اور آدمی کے اندر محنا لفانہ جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ ایسے مواقع پر مومن کو یہ کرنا ہے کہ مخالفانہ جذبات کو اندر ہی اندر دبانے تلخی کے با وجود وہ دوسروں کے ساتھ بہتر جذبات کے ساتھ پیش آئے۔ جنت ایک نہایت لطیف اور پاکیزہ مقام ہے جو اللہ خصوصی اہتمام کے ساتھ اپنے نیک بندوں کے لئے بنائے گا : عن جابر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت وسلم ان اهل الجنة ياكلون فيها و کے لوگ کھائیں گے اور پئیں گے مگر وہ نہ يشربون ولا يتفلون ولا يبولون ولا تھوکیں گے اور نہ پیشاب کریں گے اور نہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page