آخرت
Urdu book, p. 63
By Maulana Wahiduddin Khan
يتغوطون ولا يمتختون - قالوا فاما بال پاخانہ کریں گے۔ لوگوں نے پوچھا پھر کھانے الطعام قال جشاء ورشح كرشح المسك کا کیا ہوگا۔ فرمایا: ڈکار اور پسینہ نکلے گا جو يلهمون التسبيح والتحميد كما تلهمون مشک کی طرح خوشبودار ہوگا۔ ان کو حمد النفس (مسلم) اور تسبیح اسی طرح الہام کی جائے گی جس طرح تم سانس لیتے ہو۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت ایک ایسی دنیا ہے جہاں میل اور کثافت بھی خوشبو کی صورت میں خارج ہوتی ہے۔ پھر ایسی دنیا میں وہ لوگ کیوں کر داخل ہوں گے جو اپنی کثافت کو صرف کثافت کی صورت میں خارج کرنا جانتے ہوں۔ بغض، نفرت، حسد، انتقام اور کبر و ظلم یہ سب انسان کی نفسیات کا میل کچیل ہے۔ جو لوگ اپنے میل کچیل کو صرف میل کچیل کی صورت میں ظاہر کرنا جانتے ہوں وہ جنت میں بسائے جانے کے قابل نہیں۔ جنت خدا کے ان بندوں کی کالونی ہے جو اپنے اندر کے میل کو بھی پاکی کی صورت میں خارج کرتے ہیں۔ جنت میں وہ لوگ بسائے جائیں گے جو نفرت کے مواقع پر محبت کریں۔ جو انتقام کے مواقع پر معاف کر دیں۔ جو حسد اور بغض کے مواقع پر خیر خواہی کا ثبوت دیں۔ جو کبر کے مواقع پر خاکساری دکھائیں اور ظلم کے مواقع پر انصاف کا رویہ اختیار کریں۔ یہ گویا اپنے میل اور کثافت کو خوشبو کی صورت میں ظاہر کہ نا ہے، انھیں خصوصیات والے لوگ جنت کی کالونیوں میں بسائے جائیں گے۔ دنیا کو اس ڈھنگ پر بنایا گیا ہے کہ یہاں بار بار آدمی کو نا خوشگوار صورت حال سے سابقہ پیش آئے۔ یہ موجودہ دنیا کے دار الامتحان ہونے کا تقاضا ہے۔ ان ناخوشگوار مواقع پر جو شخص مثبت رد عمل کا اظہار کرے گا وہ جنت کا مستحق بنا اور جو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader