آخرت
Urdu book, p. 64
By Maulana Wahiduddin Khan
منفی جذبات کا شکار ہو جائے اس نے اگلی زندگی میں اپنے لئے جنت کا استحقاق کھو دیا۔ جنت کی فضاؤں میں بسنے کے قابل وہ لوگ ہیں جن کا یہ حال ہو کہ ان کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آئے تو وہ مایوس نہ ہوں بلکہ صبر کا طریقہ اختیار کریں۔ کسی سے ان کو تکلیف پہنچے تو اس کے حق میں دعائیں دیں۔ کسی سے معاملہ پڑے تو انصاف کے مطابق اس کے حقوق ادا کریں ۔ کوئی تنقید کرے تو اس کو برا مانے بغیر ٹھنڈے دل سے سنیں۔ کسی سے خواہ کتنی ہی شکایت ہو اس کے بارہ میں عدل کارویہ نہ چھوڑیں۔ جب بھی کسی سے معاملہ پڑے تو دوسرے شخص کو ان سے بہتر سلوک کا تجربہ ہو۔ حتیٰ کہ دوسروں کے ناخوشگوار رویہ سے اپنے سینہ میں اگر نفرت و عداوت کے جذبات پیدا ہوں تب بھی وہ ان کو پی جائیں۔ اپنے مخالفانہ جذبہ کو وہ خیر خواہی اور انصاف کی صورت میں ظاہر کریں۔ وہ دنیا کی زندگی میں خدا کا ایسا پھول بن جائیں جو اپنی کثافت کو بھی خوشبو کی صورت میں ظاہر کرتا ہے۔ ایسی پاک زندگی گزارنے کی توفیق ان لوگوں کو ملتی ہے جو اللہ کو اس طرح یاد کرنے لگیں جس طرح کوئی آدمی سانس لیتا ہے۔ وہ اللہ کو اس طرح پالیں کہ وہ ان کی روح کے اندر تیر جائے۔ وہ ان کے دل کی دھڑکنوں میں شامل ہو جائے۔ وہ اللہ کے خوف و محبت میں نہا اٹھیں۔ وہ مواقع جب کہ آدمی کے اندر سرکشی کی آگ بھڑکتی ہے اس وقت مومن کو تواضع کے ساتھ جھک جانا ہے۔ جب نفرت کے جذبات انڈتے ہیں اس وقت اس کو محبت کا رویہ اختیار کرنا ہے۔ جب بدخواہی کی نفسیات ابھرتی ہے اس وقت اس کو خیر خواہی کا ثبوت دینا ہے۔ جب بد دعا کے کلمات زبان سے نکلتے ہیں اس وقت اس کو دعا کے کلمات اپنی زبان سے ادا کرنا ہے۔ جب حقوق کو دبانے کا خیال

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader