ارکانِ اسلام
Urdu book, p. 70
By Maulana Wahiduddin Khan
کرنا ہے۔ یہ اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ آدمی اپنی امیدوں اور تمناؤں، اپنے اندیشوں اور التجاؤں کا مرکز اللہ کو بنائے گا۔ وہ کہیں اور جینے کے بجائے اپنے رب میں جئے گا۔ آدمی کی امید میں اور اس کے احساسات جہاں اٹکے ہوئے ہوں، وہیں وہ آدمی جی رہا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو ہر آدمی، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، کہیں نہ کہیں جی رہا ہوتا ہے۔ کوئی اپنے گھر بار اور اپنے بال بچوں میں جیتا ہے۔ کوئی اپنے معاش اور کاروبار میں جیتا ہے۔ کوئی اپنے سیاسی مشاغل اور قبادتی مصروفیات میں جیتا ہے، کوئی اپنی عزت اور اقتدار کے خو ابوں میں جیتا ہے۔ غرض ہر آدمی کہیں نہ کہیں جی رہا ہے۔ مگر یہ تمام جینا جاہلیت کا جینا ہے۔ یہ اپنا آشیانہ ایسی شاخوں پر بنانا ہے جن کا حقیقتاً کوئی وجود نہیں۔ حقیقی جینا یہ ہے کہ آدمی اپنے رب میں جینے لگے۔ وہ اس سہارے کو پکڑلے جس کے سوا اس کائنات میں کسی کے لئے کوئی سہارا نہیں۔ وہ اللہ کی یاد کو لے کرسوئے اور اللہ کی یاد کے ساتھ صبح کرے ۔ وہ اسی کے بھروسہ پرُکے اور اسی کے بھروسہ پر چلے ۔ وہ اسی کے لئے بولے اور اسی کے لئے خاموشی اختیار کرے ۔ ایمان کی مثال بجلی کی کرنٹ کی سی ہے ۔ پاور ہاؤس سے بجلی کی کرنٹ جب کارخانہ میں پہنچتی ہے تو سارا کارخانہ جگمگا اٹھتا ہے ۔ اس کی تمام کلیں حرکت میں آجاتی ہیں، اسی طرح جب کسی بندے کا اپنے رب سے ایمانی تعلق قائم ہوتا ہے تو اس کے اندر اچانک ایک نئی روشنی آجاتی ہے ، اس کی فطرت جاگ اٹھتی ہے۔ ایمان اس کے قلب کو گر ماننے والا اور اس کی روح کو تڑپانے والا بن جاتا ہے۔ وہ اس کے اندر ایک نئی آگ لگا دیتا ہے۔ وہ انسان جو پہلی بار اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا ، وہ دوبارہ ایمان کی کوکھ سے ایک نیا جنم لیتا ہے۔ وہ اب خدا سے الگ نہیں رہتا بلکہ خدا میں شامل ہو جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader