ارکانِ اسلام
Urdu book, p. 71
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک شخص کو کسی سے محبت ہو تو جسمانی طور پر وہ اس سے جدا رہتے ہوئے بھی حیاتی طور پر وہ اس سے مل جاتا ہے۔ وہ ہر چیز میں اسی کا جلوہ دیکھنے لگتا ہے۔ یہی حال اللہ پر ایمان لانے والے کا ہوتا ہے۔ وہ آسمان کی وسعتوں میں خدا کی عظمت کا مشاہدہ کرتا ہے۔ طوفانوں کی قہر مانی میں اس کو خدا کا جلال دکھائی دیتا ہے۔ چڑیوں کے چہچہے میں اس کو خدا کے نغمے سنائی دیتے ہیں۔ سورج نکلتا ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے کہ خدا نے اپنا نورانی ہاتھ اس کی طرف بڑھایا ہے۔ وہ درختوں کو دیکھتا ہے تو اس کو ایسا معلوم ہوتا ہے گویا خدا کی تخلیقی کہانی سر سبز صفحات کی صورت میں زمین کے اوپر پھیلا دی گئی ہے۔ ہوا کا جھونکا جب اس کو چھوتا ہے تو وہ اس کے لئے خدا سے اتصال کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ غرض جو شخص خدا کا مومن بن جائے وہ ہر آن خدا کے اتھاہ سمندر میں غوطہ لگاتا رہتا ہے۔ ہر تجربہ جو اس کے ساتھ گزرتا ہے وہ اس کو خدا سے ملانے والا بن جاتا ہے۔ وہ خدا کا ہو جاتا ہے اور خدا اس کا۔ اللہ پر ایمان ایک ایسے خدا پر ایمان ہے جو ساری کائنات کا خالق، مالک اور پروردگار ہے۔ اسی نے سب کچھ بنایا ہے، اسی کے سہارے ہر چیز قائم ہے، اس کے بغیر کسی چیز کا کوئی وجود نہیں۔ ایمان آدمی کے اندر اس شعور کو زندہ کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس حیثیت سے دیکھنے لگتا ہے کہ وہ ایک خدا کا بندہ ہے، ہر چیز میں اس کو خدا کا کرشمہ نظر آتا ہے اور ہر عطیہ اس کو خدا کے ہاتھ سے ملتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ خدا کا ذکر اور اس کی حمد ہر آن اس کے اندر سے ابھرتی رہتی ہے۔ ایسے آدمی کے لمحات غفلت کے لمحات نہیں ہوتے بلکہ ہوش مندی کے لمحات ہوتے ہیں۔ ہر موقع اس کے لئے خدا کی یاد دلانے والا بن جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader