Urdu book · اسلامی تعلیمات

ارکانِ اسلام

Urdu book, p. 72

By Maulana Wahiduddin Khan

دن بھر کا تھکا ہوا شام کو وہ اپنے بستر پر لیٹتا ہے، اس کو گہری نیند آ جاتی ہے۔ صبح کو وہ تازہ دم ہو کر اٹھتا ہے تو یہ حساب احسان مندی کے جذبہ کے تحت اس کی زبان سے نکلتا ہے: خدایا تیرا یہ احسان بھی کیسا عجیب ہے۔ اگر آدمی پر نیند نہ آئے تو وہ پاگل ہو جائے اور چند دن کی زندگی بھی اس کے لئے محال ہو جائے۔ رات کی تاریکی کے بعد جب سورج نکلتا ہے اور دنیا کو روشن کر دیتا ہے تو اس کا دل بے اختیار پکار اٹھتا ہے: کیسی با برکت ہے وہ ذات جس نے روشنی پیدا کی۔ اگر روشنی نہ ہو تو سارا عالم تاریکی کا مہیب سمندر بن جائے۔ جب اس کو بھوک لگتی ہے، وہ پانی پیتا ہے اور کھانا کھاتا ہے تو اس کی پوری ہستی شکر کی کیفیت سے بھر جاتی ہے۔ وہ حیران ہو کر سوچنے لگتا ہے کہ خدا اگر آدمی کے لئے کھانا اور پانی نہ اتارتا تو آدمی کا کیا حال ہوتا۔ اس کو چوٹ لگتی ہے تو وہ خدا کو مدد کے لئے پکارتا ہے۔ اس کو حاجتیں پیش آتی ہیں تو وہ خدا ہی سے امید کرتا ہے کہ وہ اس کی حاجتوں کو پورا فرمائے گا۔ اس کو نفع ملتا ہے تو اس کو انسان کے اوپر خدا کی نوازشیں یاد آتی ہیں اور اس کا دل شکر کے جذبات سے بھر جاتا ہے۔ اس کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کو وہ خدا کی قدرت کا ایک کرشمہ سمجھتا ہے۔ نعمتوں کا ملنا اس کو مغرور نہیں بناتا اور نقصان اس کے اندر بے صبری پیدا نہیں کرتا۔ کوئی عقیدت اس کے لئے خدا کی حریف نہیں بنتی۔ کوئی مصلحت اس کو خدا سے بے پروا نہیں کرتی۔ ایک شخص زمین اور دوسرے اجرام کی قوت کشش کو دریافت کرے یا کائناتی شعاعوں کو اپنے آلات کی مدد سے پالے تو یہ اس کے لئے محض ایک علمی یافت ہوگی۔ یہ پانے والے سے کسی ذمہ داری کا تقاضا نہیں کرے گی۔ مگر خدا کو پانے کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ خدا کو پانا ایک ایسی ہستی کو پانا ہے جو سننے والا اور جاننے والا ہے، جو حکمت اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page