ارکانِ اسلام
Urdu book, p. 73
By Maulana Wahiduddin Khan
طاقت کا خزانہ ہے۔ ایسے خدا کو جب ایک شخص پاتا ہے تو ٹھیک اسی وقت وہ اس حقیقت کو بھی پال لیتا ہے کہ خدا نے اس کو اور کائنات کو عبث نہیں بنایا ہے۔ ایک عظیم انسان کائنات یوں ہی خاموش کھڑی رہے اور اس کی معنویت کبھی ظاہر نہ ہو ، یہ ایک ایسی کائنات میں بالکل ناممکن ہے جس کا بنانے اور چلانے والا ایک علیم اور عزیز خدا ہو۔ اس طرح اس کی ایمانی یافت اس کو اس یقین تک پہنچاتی ہے کہ ضرور ہے کہ ایک دن ایسا آئے جب کہ وہ خدا لوگوں کے سامنے ظاہر ہو جائے جو کائنات کے تمام واقعات کے پیچھے کام کر رہا ہے ، جب آدمی ان حقائق کو دیکھ کر جان لے جن کی بابت آج وہ نظر نہ آنے کی وجہ سے جھگڑ رہا ہے۔ پھر یہی یقین اس کو یہ بھی بتاتا ہے کہ کائنات کے خالق و مالک کا ظہور اس قسم کا غیر متعلق ظہور نہیں ہو گا جیسے تاریک رات کے بعد روشن سورج نکلتا ہے۔ یہ ایک باشعور اور محاسب و مجازی طاقت کا ظہور ہو گا ۔ خدا وند کائنات کا ظہور کائنات کے لئے قیامت کے ہم معنیٰ بن جائے گا۔ خدا کے ظاہر ہوتے ہی اس کے تمام سرکش اور خود پرست بندے خدا کی اس دنیا میں بے قیمت ہو جائیں گے۔ وہ اس دن مکھی مچھر سے بھی زیادہ حقیر نظر آئیں گے۔ دوسری طرف اس کے خدا پرست اور وفادار بندے اچانک سرفرازی کا مقام حاصل کر لیں گے۔ خدا کا غیب میں ہونا خدا کے غیر وفادار بندوں کو اچھل کود کے مواقع دئے ہوئے ہے۔ خدا کا ظاہر ہونا خدا کے وفادار بندوں کے لئے سرفرازی کا دن بن جائے گا۔ اس کے بعد ایک نئی ، زیادہ بہتر اور مکمل دنیا شروع ہوگی جہاں سرکش لوگ ابدی طور پر جہنم میں ڈال دئے جائیں گے اور وفادار لوگ ابدی طور پر جنت میں خوشیوں اور لذتوں کی زندگی گزاریں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader