ارکانِ اسلام
Urdu book, p. 74
By Maulana Wahiduddin Khan
جب آدمی اس یقین تک پہنچتا ہے تو وہ خدا کی ہیبت سے کانپ اٹھتا ہے۔ وہ پکار اٹھتا ہے : " خدا آیا مجھے اس دن رسوا ہونے سے بچا جب تو اپنی طاقتوں کے ساتھ ظاہر ہو گا۔ جب انصاف کا ترازو قائم کیا جائے گا۔ جب آدمی بالکل بے بس حالت میں تیرے سامنے کھڑا ہو گا۔ جب تیرے سوا کسی کے پاس کوئی اختیار نہ ہوگا"۔ خدا کو الہ بنانے ہی کا ایک پہلو رسول کی رسالت کو ماننا ہے۔ جب آدمی خدا کو ایک زندہ اور باشعور ہستی کی حیثیت سے پاتا ہے تو فوراً یہ سوال اس کے سامنے آجاتا ہے کہ میرا خدا مجھ سے کیا چاہتا ہے۔ اس سلسلے میں اس کو اندرونی فطرت سے اشارے ملتے ہیں۔ کائنات اپنی خاموش زبان میں کچھ پیغامات نشر کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ مگر وہ چاہتا ہے کہ اپنے رب کے پیغام کو یقینی زبان میں پالے، وہ آنے والے دن سے پہلے اس دن کے معاملات سے باخبر ہو جائے ۔ عین اس وقت اس کو پیغمبر کی آواز سنائی دیتی ہے : " میں اللہ کا بندہ اور رسول ہوں۔ اللہ نے مجھ کو انسانوں کی ہدایت کے لئے بھیجا ہے۔ میری طرف آؤ اور مجھ سے اپنے رب کے پیغامات معلوم کرو۔" جو انسان حقیقتاً طالب ہو، جو فی الواقع سچائی کی تلاش میں ہو، اس کے لئے اس آواز کو پہچاننا مشکل نہیں ہوتا۔ وہ تعصب اور غفلت کے ان تمام پردوں کو پہلے ہی پھاڑ چکا ہوتا ہے جو آدمی کو گھیرے رہتے ہیں اور سچائی کی آواز کو اس کے اندر داخل نہیں ہونے دیتے ۔ ایک بچہ جس طرح اپنی ماں کی آواز کو پہچان لیتا ہے ، اسی طرح وہ اس خدائی پیغام کو پہچان لیتا ہے جو پیغمبر کی معرفت اس کے رب کی طرف سے اس کو پہنچ رہا ہے۔ پیغمبر کی آواز اس کے لئے ایسی ہی ثابت ہوتی ہے جیسے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader