Urdu book · اسلامی تعلیمات

ارکانِ اسلام

Urdu book, p. 79

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کی طرف کر دے۔ نماز میں بیت اللہ کی طرف رخ کا اہتمام کرکے ظاہر کیا جاتا ہے کہ بندے نے اپنی زندگی کو خدا کی طرف موڑ دیا، اس نے اپنی زندگی کو اندر سے لے کر باہر تک خدا رخی (God-oriented) بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ اللہ کے آگے بندے کے اس جھکاؤ سے جو کیفیت پیدا ہوتی ہے وہ صرف خدا کے سامنے جھکاؤ تک نہیں رہتی، وہ اس کی مستقل کیفیت بن جاتی ہے۔ جو آدمی اللہ سے ڈرنے لگے، جو اللہ کے آگے جھک جائے ۔ جو اللہ کے مقابلہ میں اپنے کو بے حقیقت بنالے وہ بندوں کے سامنے آئے گا تو نا ممکن ہے کہ یہاں اس کے رویہ میں اس کے عبادتی اثرات ظاہر نہ ہوں ۔ وہ انسان کے آگے سجدہ میں نہیں گرے گا مگر وہ انسان کے مقابلہ میں گھمنڈ بھی نہیں دکھائے گا۔ وہ انسان کو ’’تو بڑا ہے‘‘ نہیں کہے گا مگر اپنی بڑائی کا سکہ اس پر قائم کرنے کی کوشش بھی نہیں کرے گا۔ نماز میں اس کا ساجد بننا بندوں کے مقابلہ میں تواضع کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ نماز میں اس کا خدا کی تابعداری کا اقرار کرنا بندوں کے معاملات میں حقوق کی ادائیگی کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ نماز میں اس کی رخ بندی بندوں کے معاملات میں اصول کی پابندی کی صورت میں ظاہر ہوگی۔ وہ انسان جو خدا کے سامنے کامل بندگی کا اقرار کر کے مسجد سے نکلا تھا، وہ بندوں کے درمیان کامل اخلاق کا نمونہ بنا ہوا دکھائی دے گا ۔ نماز کسی بندے کے معاملات کو خدا کے ساتھ عجز کی بنیاد پر قائم کرتی ہے اور بندوں کے ساتھ اس کے معاملات کو تواضع کی بنیاد پر۔ روزانہ پانچ وقت کی نمازوں کے علاوہ نماز کی اور بھی کئی صورتیں ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page