ارکانِ اسلام
Urdu book, p. 80
By Maulana Wahiduddin Khan
رات کو تہجد کی نماز، کوئی غیر معمولی واقعہ پیش آنے کے وقت کی نماز، حاجت اور استخارہ کی نماز، اسی طرح جمعہ اور عیدین کی جماعت ، جنازہ کی نماز جماعت، وغیرہ۔ یہ نمازیں اسی کیفیت کو مزید اضافہ کے ساتھ حاصل کرنے کی کوششیں ہیں جو پانچ وقتہ نمازوں سے ہر روز مطلوب ہوتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نماز اگر پوری طرح کسی کو مل جائے تو وہ اس کی پوری زندگی میں شامل ہو جاتی ہے۔ وہ ایک نیا کام شروع کرے تو دو رکعت نماز پڑھ کر خدا سے مدد کی درخواست کرتا ہے۔ وہ کسی مقام پر پہلی بار جائے تو وہاں وہ نماز پڑھ کر اپنے رب کی یاد کرتا ہے۔ کوئی مسئلہ اس کی سمجھ میں نہ آ رہا ہو تو نماز پڑھ کر اپنے دل کی گرہ کو کھولنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی حال بندوں سے تعلقات کے معاملہ میں بھی ہوتا ہے۔ بندوں سے معاملہ کرتے ہوئے اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا نماز اس کے ساتھ ایک خدائی نگراں کی طرح لگی ہوئی ہے۔ دنیا کی پھیلی ہوئی زندگی میں اپنا حصہ ادا کرتے ہوئے اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ساری زمین خدا کی مسجد ہے اور ہر جگہ اس کو اپنی عبادت گزاری کے تقاضے پورے کرنے ہیں۔ روزه اسلام کا تیسرا رکن روزہ ہے۔ روزہ میں آدمی صبح کو فجر سے لے کر شام کو سورج ڈوبنے تک نہ کوئی کھانے کی چیز کھاتا اور نہ پینے کی چیز پیتا۔ اس طرح اپنی زندگی کی سب سے بڑی ضرورت کو چھوڑ کر وہ صبر (رکھنے اور برداشت کرنے) کی تربیت حاصل کرتا ہے۔ کھانا پینا چھوڑنے کی وجہ سے اس کو دن میں بھوک لگتی ہے۔ پیاس ستاتی ہے،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader