ارکانِ اسلام
Urdu book, p. 81
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کا جسم کمزور ہو جاتا ہے۔ اس کے معمولات درہم برہم ہو جاتے ہیں۔ اس کی پوری زندگی کا نظام پلٹ ہو جاتا ہے۔ مگر وہ ان تمام چیزوں کو برداشت کرتا ہے۔ وہ ناخوشگوار یوں کو جھیلتا ہے۔ وہ اپنی جسمانی تکلیفوں پر قابو رکھتے ہوئے اپنے ہوش و حواس کو برقرار رکھتا ہے۔ وہ مشکلات کے باوجود اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں لگا رہتا ہے۔ اس کی آنکھوں کے سامنے پانی ہوتا ہے مگر پیاس کے باوجود وہ اس کو نہیں پیتا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے کھانا ہوتا ہے مگر بھوک کے باوجود وہ اس کو نہیں کھاتا۔ اس طرح وہ اپنے آپ کو اس کے لئے تیار کرتا ہے کہ وہ ایک پابند اور ذمہ دار زندگی گزارے۔ وہ وہی کرے جو اس کو کرنا چاہئے ۔ اور وہ نہ کرے جو اس کو نہیں کرنا چاہئے ۔ خواہ کسی بھی قسم کی مشکل پیش آئے، ہر حال میں وہ اصل مقصد حیات کی طرف اپنے سفر کو جاری رکھے ۔ خدا نے دنیا کی زندگی میں بے شمار نعمتیں انسان کو دے رکھی ہیں۔ مگر یہ نعمتیں خود بخود ملتی رہتی ہیں، اس لئے آدمی کو ان کا احساس نہیں ہوتا۔ آدمی کو ایک بے حساب قسم کا پیچیدہ جسمانی نظام دیا گیا ہے۔ ایک رگ میں فرق آجائے تو سارے جسم کا توازن بگڑ جائے۔ دنیا میں دھوپ ، ہوا ، پانی ، اور لا تعداد دوسری چیزیں حیرت انگیز طور پر اس کے لئے کار آمد بنا دی گئی ہیں۔ اگر ایک چیز بھی ان میں سے نہ رہے تو زندگی عذاب بن جائے۔ یہ تمام چیزیں بغیر کسی اکتسابی کوشش کے آدمی کو ملتی رہتی ہیں، اس لئے آدمی ان کی اہمیت کو سمجھ نہیں پاتا۔ روزہ میں انسان کو اس کی انتہائی بنیادی ضرورت سے عارضی طور پر کچھ دیر کے لئے روکا جاتا ہے۔ اور اس طرح اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader