Urdu book · اسلامی تعلیمات

ارکانِ اسلام

Urdu book, p. 82

By Maulana Wahiduddin Khan

کے اندر خدائی نعمتوں کا شعور جگایا جاتا ہے۔ دن بھر کی بھوک، پیاس، تھکن اور بے آرامی کے بعد شام کو جب آدمی کھانا کھاتا ہے اور پانی پیتا ہے تو اس کو اپنی محتاجی اور خدا کی بے پناہ بخششوں کا احساس ہوتا ہے، وہ اللہ کے شکر کے جذبہ سے بھر جاتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ جس خدا نے ایسی نعمتیں دی ہیں، اس کے لئے اگر میں اپنی پوری زندگی بھی قربان کر دوں تو حق ادا نہیں ہو سکتا۔ دنیا میں مومن کو جو زندگی گزارنی ہے وہ شروع سے آخر تک صبر کی زندگی ہے۔ اس کو اللہ کی جائز کی ہوئی چیزوں تک اپنے کو محدود رکھنا ہے، اس کی ناجائز کی ہوئی چیزوں کو ہاتھ نہیں لگانا ہے۔ حق پرستانہ زندگی کی راہ میں آنے والی مشکلات کو برداشت کرنا ہے۔ دوسروں کی طرف سے پیش آنے والی تکلیفوں کا جواب دینے میں اپنا وقت ضائع نہیں کرنا ہے بلکہ ان کو سہتے ہوئے اپنے فریضہ حیات کو پورا کرنے میں لگے رہنا ہے۔ اس کو دنیا کے نقصانات کی پروا نہ کرتے ہوئے آخرت کی طرف اپنے سفر کو جاری رکھنا ہے۔ ایسے تمام مواقع پر جب کہ اس کے نفس کو چوٹ لگے، جب اس کے اندر کوئی ناپسندیدہ بات پیش آنے کی وجہ سے اشتعال پیدا ہو تو اس کو منفی رد عمل سے اپنے آپ کو بچانا ہے۔ اور ہر حال میں اپنے آپ کو مثبت مقاصد کے لئے وقف رکھنا ہے یہ تمام چیزیں بے پناہ صبر و برداشت چاہتی ہیں۔ صبر کے بغیر کوئی شخص اسلام کے راستہ کا مسافر نہیں بن سکتا۔ روزہ ہر سال اسی صبر کا سبق دیتا ہے۔ وہ ایک مہینہ تک صابرانہ زندگی کی مشق کرا کر آدمی کو تیار کرتا ہے کہ وہ سال کے بقیہ مہینوں کو صبر کے ساتھ گزار سکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page