Urdu book · اسلامی تعلیمات

ارکانِ اسلام

Urdu book, p. 83

By Maulana Wahiduddin Khan

حقیقت یہ ہے کہ مومن کی پوری زندگی ایک قسم کی روزہ دار زندگی ہے۔ اس کو تمام عمر برائی سے، منفی تدبیروں سے، بے صبری کے اقدامات سے، دوسروں کو ستانے سے، اللہ کے حرام کو حلال کرنے سے روزہ رکھ لینا ہے۔ سال کے ایک مہینہ میں ضروریات زندگی پر پابندی لگا کر اسی قسم کی "روزہ دار" زندگی کی مشق کرائی جاتی ہے۔ روزہ اپنی شکل کے اعتبار سے مقررہ اوقات کے لئے کھانا پانی چھوڑ نا ہے اور اپنی حقیقت کے اعتبار سے صابرانہ زندگی کی تربیت۔ زکوٰۃ اسلام کا چوتھا رکن زکوٰۃ ہے۔ زکوٰۃ کا مطلب یہ ہے کہ اپنی کمائی اور اپنی دولت سے ہر سال ایک مقررہ رقم (عام طور پر ڈھائی فی صد) اللہ کے نام پر نکالی جائے۔ اور اس کو دین کی ضرورتوں اور حاجت مندوں کے اوپر خرچ کیا جائے۔ یہ زکوٰۃ ایک قسم کی سالانہ یاد دہانی ہے کہ انسان کے پاس جو کچھ ہے وہ خدا کا ہے، اس کو چاہئے کہ اپنی کسی چیز کو خدا سے بچا کر نہ رکھے۔ دنیا میں آدمی جو کچھ حاصل کرتا ہے، اس کا اپنا حصہ اس میں بہت تھوڑا ہوتا ہے ۔ زمین و آسمان کے اندر جو بے شمار اعلیٰ ترین انتظامات ہیں اگر وہ ساتھ نہ دیں تو آدمی نہ کوئی دانہ اگا سکے ، نہ مویشیوں کی پر ورش کر سکے، نہ صنعتیں قائم ہوسکیں ، نہ اور کوئی کام کرنا ممکن ہو۔ انسان کے اپنے وجود سے لے کر باہر کے عالم تک جو خدائی انتظامات ہیں ، ان میں سے کوئی ایک چیز بھی اگر خدا واپس لے لے تو آدمی کی ساری کوششیں اور منصوبے اکارت چلے جائیں اور کوئی نتیجہ پیدا نہ کریں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page