Urdu book · اسلامی تعلیمات

ارکانِ اسلام

Urdu book, p. 84

By Maulana Wahiduddin Khan

زکواتہ اسی حقیقتِ واقعہ کا مالی اعتراف ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ آدمی اپنے مال کو خدا کا مال سمجھے۔ وہ اپنی کمائی میں خدا کا حق تسلیم کرے ۔ اس معاملہ میں زیادہ کی کوئی حد نہیں ہے۔ تاہم کم سے کم کی حد مقرر کر دی گئی ہے۔ قانونی زکوٰۃ کی صورت میں آدمی ہر سال خدا کا وہ حق نکالتا ہے جو کم سے کم اسے خدا کے نام پر دینا چاہئے۔ اور پھر اس کو جمع کرکے خدا کی مقرر کی ہوئی مددوں میں خرچ کیا جاتا ہے۔ اس نکالنے میں آدمی کو نہ تو یہ اجازت ہے کہ وہ اس کو دوسروں کے اوپر احسان سمجھے اور نہ اس کو ایسا کرنا چاہئے کہ پانے والوں کو ذلیل کرے ۔ اس کو اس جذبہ کے تحت دینا چاہئے کہ یہ خدا کی طرف سے آیا ہو اور دوسروں کا حصہ ہے اور وہ اس کو حق داروں کی طرف لوٹا رہا ہے۔ وہ اس لئے دوسروں کو کھلائے تاکہ خدا آخرت کے دن اس کو کھلائے، وہ اس لئے دے تاکہ خدا آخرت کے دن اس کو محروم نہ کرے۔ زکواۃ ان ذمہ داریوں کی ایک علامت ہے جو ایک انسان کو دوسرے انسانوں کے درمیان ادا کرنا ہے۔ وہ ذمہ داری یہ ہے کہ ہر آدمی دوسرے آدمی کا حق پہچانے، ہر آدمی دوسرے آدمی کے لئے دردمند ہو۔ یہ جذبات یہاں تک ترقی کریں کہ آدمی خود اپنی چیزوں تک میں دوسرے کا حصہ سمجھنے لگے ۔ دوسرے سے کوئی معاوضہ نہ ملتے ہوئے بھی وہ اس کے کام آئے ۔ دوسرے سے نفع کی امید نہ ہوتے ہوئے بھی وہ اس کی عزت کا نگہبان ہو۔ دوسرے سے رشتہ اور دوستی کا تعلق نہ ہوتے ہوئے بھی وہ اس کا خیر خواہ ہو۔ نہ زکوٰۃ ایک طرف آدمی کو یہ سبق دیتی ہے کہ اس کی ہر چیز خدا کا عطیہ ہے۔ دوسری طرف اس کو یہ احساس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page