Urdu book · اسلامی تعلیمات

ارکانِ اسلام

Urdu book, p. 85

By Maulana Wahiduddin Khan

دلاتی ہے کہ تم اگر خدا کے بندے ہو تو تم کو معاشرہ کے اندر بے درد اور خود غرض بن کر نہیں رہنا چاہئے۔ بلکہ تمہاری زندگی میں دوسروں کا بھی حصہ ہونا چاہئے۔ سماجی تنظیم کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی دوسرے کے کام صرف اس وقت آئے جب کہ اس کو دوسرے سے نفع کی امید ہو۔ وہ کسی کو قرض دے تو اس اعتماد پر دے کہ وہ سود کے ساتھ اس کی طرف اضافہ شدہ حالت میں لوٹے گا۔ ایسے معاشرہ میں استحصال کا مزاج فروغ پاتا ہے۔ ہر آدمی دوسرے آدمی کو بنانا اور لوٹنا چاہتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پورا سماج بد نظمی کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایسے سماج میں کسی کو بھی سکون حاصل نہیں رہتا۔ خواہ وہ امیر ہو یا غریب۔ سماجی تنظیم کی دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی خدا سے بدلہ پانے کی امید پر دوسرے انسان کے کام آئے۔ وہ اس خدائی یقین دہانی کی بنیاد پر دوسرے کو دے کہ خدا اس کو آخرت میں بہت زیادہ بڑھا کر لوٹائے گا۔ ایسے معاشرہ میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت اور بے تعلقی کے جذبات فروغ نہیں پاتے۔ لوگ ایک دوسرے کو استحصال کی نظر سے نہیں دیکھتے۔ سماج میں باہمی ناراضی اور انتشار کی فضا پیدا نہیں ہوتی۔ ہر ایک دوسرے کی طرف سے امن میں رہتا ہے۔ اور پورا سماج سکون اور خوش حالی کا سماج بن جاتا ہے۔ زکوٰۃ ظاہری اعتبار سے ایک قسم کا سالانہ "ٹیکس" ہے اور حقیقت کے اعتبار سے اپنی ملکیت میں خدا اور بندے کے حق کا اعتراف۔ حج اسلام کا پانچواں رکن حج ہے۔ سال میں ایک بار ساری دنیا کے مسلمان مرکز

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page