ارکانِ اسلام
Urdu book, p. 86
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام میں جمع ہوتے ہیں اور وہاں مخصوص عبادات انجام دیتے ہیں۔ حج کی عبادات کیا ہیں ۔ یہ دراصل ان اسلامی تعلیمات کو علامتی طور پر دہرانا ہے جو اسلام میں معنوی طور پر مطلوب ہیں۔ یہ اسلام کے احکام کو مخصوص صورتوں میں تشکل کرکے اللہ سے یہ عملی عہد کرنا ہے کہ آدمی انھیں بنیادوں پر اپنی زندگی کو قائم کرے گا۔ اسلام کی دوسری عبادات میں بھی اگر چہ یہ پہلو موجود ہے۔ تاہم حج میں زیادہ بڑے پیمانہ پر اور مجموعی شکل میں یہ تمام چیزیں اکٹھا کر دی گئی ہیں۔ اسلام چاہتا ہے کہ انسانوں کے درمیان ہر قسم کے مصنوعی امتیازات ختم ہو جائیں اور تمام انسان ایک خدا کے بندے بن کر دنیا میں زندگی گزاریں، احرام باندھنا اسی کی ایک عملی صورت ہے جس میں مختلف قوموں اور مختلف ملکوں کے لوگ یکساں طور پر ایک ہی سادہ لباس پہنے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اسلام چاہتا ہے کہ آدمی کی زندگی خدا کے گرد گھومنے لگے، کعبہ کے گرد گھومنا اسی کا ایک علامتی مظاہرہ ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ خدا کے بندے خدا کی راہ میں دوڑ دھوپ کرنے والے بنیں ، صفا ومروہ کے درمیان دوڑ (سعی) اسی کی ایک مشق ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ جب خدا کی پکار بلند ہو تو اس کے بندے اس کی پکار پر دوڑ پڑیں ، حج کے دوران بار بار لبیک اللّٰہم لبیک (حاضر ہوں خدایا میں حاضر ہوں ) کہنا اسی کا ایک اقرار ہے اسلام چاہتا ہے کہ آدمی اس دن کو یاد کرے جب کہ سارے انسان خدا کے یہاں جمع کئے جائیں گے ، عرفات کے وسیع کھلے ہوئے میدان میں تمام حاجیوں کا قیام اسی کی ایک ظاہری یاد دہانی ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ آدمی شیطان سے بیزار ہو۔ اور ہمیشہ اس کو اپنے سے دور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader