ارکانِ اسلام
Urdu book, p. 87
By Maulana Wahiduddin Khan
بھگاتا رہے، رمی جمار کے موقع پر شیطان کی پتھر کی علامتوں پر کنکریاں مارنا اسی کا ایک عملی سبق ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ انسان ہر حال میں خدا کے عہد پر قائم رہے خواہ ایسا کرنے کے لئے جان و مال کی قربانی کی قیمت پر کیوں نہ ہو، منی میں جانور کو قربان کرنا اسی کی ایک خارجی علامت ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ اجتماعی زندگی میں لوگ ایک دوسرے کی طرف سے پیش آنے والی ناگواریوں کو برداشت کریں، حج کے زمانہ میں اس کی خصوصی تربیت ہوتی ہے۔ مختلف قسم کے لاکھوں لوگ بیک وقت ایک مقام پر جمع ہوجاتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بار بار ایسے مواقع آتے ہیں جب کہ ایک کو دوسرے سے تکلیف پہنچے۔ حج کے دنوں میں خصوصی طور پر لازم کر دیا گیا کہ غصہ، بدکلامی، مار پیٹ، کسی جان کو تکلیف پہنچانا، بے حیائی اور بد دیانتی کے کام سے مکمل پر ہیز کیا جائے۔ اللہ سے بہتر سلوک پانے کے شوق میں بندوں کے ساتھ بہتر سلوک کیا جائے۔ حج خدا ترسی زندگی گزارنے کا سبق ہے ۔ وہ آخرت کے ہولناک دن کو یاد دلاتا ہے۔ وہ خدا کے لئے سرگرم ہونے کا ریہرسل ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ آدمی کو خدا کے راستہ میں جد وجہد کرنے والا بننا چاہئے۔ وہ انسان کو بتاتا ہے کہ تمہارا سب سے بڑا دشمن شیطان ہے اس کو کبھی اپنے قریب آنے کا موقع نہ دو۔ اس کا پیغام ہے کہ اللہ کے انعامات حاصل کرنا چاہتے ہو تو اللہ کے لئے اپنے جان و مال کو قربان کرو ۔ وہ عملی حالات پیدا کرکے بتاتا ہے کہ مختلف انسانوں کو ایک دوسرے کی ناخوش گواریوں کو برداشت کرتے ہوئے انصاف اور خیر خواہی کے ساتھ مل جل کر رہنا چاہئے۔ وہ انسانی مساوات کا عظیم الشان مظاہرہ ہے۔ غرض حج ایک ایسی مکمل عبادت ہے کہ آدمی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader