Urdu book · اسلامی تعلیمات

آدمی کا امتحان

Urdu book, p. 93

By Maulana Wahiduddin Khan

کی پرورش کرے اس کا کوئی عمل کبھی قبول نہیں کرتا۔ پہلے انسان (آدم) کا قصہ خدا کے سامنے براہ راست پیش آیا تھا۔ اب دنیا کی زندگی میں ہر آن یہی قصہ خدا کے غیب میں پیش آ رہا ہے۔ آج خدا ہمارے سامنے عیاناً موجود نہیں ہے۔ آج جو چیز خدا کی جگہ پر ہے وہ خدا کی کتاب اور اس کے رسول کا طریقہ ہے اور اسی کے ساتھ آدمی کا اپنا ضمیر ہے جو اندر سے اس کو آواز دیتا ہے۔ ہر روز جب کسی انسان سے ہمارا سابقہ پیش آتا ہے اور یہ تقاضا ہوتا ہے کہ ہم اس کے حق کا اعتراف کریں، خواہ یہ تقاضا لفظی اعتراف کا ہو یا کسی عمل کا، اس وقت گویا خاموش زبان میں خدا کا حکم ہمارے پاس آجاتا ہے۔ خدا کہتا ہے کہ اس ”آدم“ کا جو حق تمہارے اوپر آنا ہے اس کو ادا کرو۔ بالفاظ دیگر، اس کے سامنے جھک جاؤ۔ اگر لفظی اعتراف کا معاملہ ہے تو لفظوں میں اس کی صداقت کا اعتراف کرو۔ اگر عملی حق کا معاملہ ہے تو عملی طور پر اس کا حق ادا کرو۔ ایسے موقع پر جو لوگ خدا کی خاموش آواز پر کان لگائیں اور فوراً اپنے آپ کو اس کی تعمیل کے لئے پیش کر دیں، وہ امتحان میں سچے اترے۔ اور جو لوگ ”میرا درجہ بڑا ہے“، ”میں اس سے بہتر ہوں“، ”میں زیادہ طاقتور ہوں“ جیسی نفسیات میں مبتلا ہو جائیں اور اپنے ”آدم“ کے آگے جھکنے سے انکار کر دیں، وہ امتحان میں پورے نہیں اترے۔ پہلی قسم کے لوگوں کے لئے فرشتوں والا انجام ہے اور دوسری قسم کے لوگوں کے لئے ابلیس والا انجام۔ انسان سے اصلاً جو چیز مطلوب ہے وہ یہی ہے کہ وہ خدا کے سامنے سجدہ کرے، مگر کوئی شخض حقیقۃً خدا کا ساجد بنا یا نہیں، اس کا امتحان اس کو ”آدم“ کے سامنے جھک کر دینا ہے۔ خدا کا سا جداور عابد وہی ہے جو خدا کے حکم کو مان کر اپنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page