اجتماعی آداب
Urdu book, p. 99
By Maulana Wahiduddin Khan
جس کی بات ہو خود اس سے تحقیق کئے بغیر نہ ماننا ابو العالیہ تابعی (متوفیٰ ۹۳ھ) کہتے ہیں: ہم بصرہ میں لوگوں سے سنتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے ایسا کہا ہے۔ مگر ہم اس طرح سننے پر راضی نہ ہوتے بلکہ ہم سوار ہو کر مدینہ جاتے اور وہاں صحابی کی اپنی زبان سے حدیث کو سنتے (کنا نسمع الرواية عن اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن بالبصرة - فمانرضى حتى نركب الى المدينة فنَسْمَعُها منْ انوا لهم، الکفایہ فی علم الردايه، خطیب بغدادی صفحہ ۴۰۳) عمومی فساد ہمیشہ انفرادی شرارت سے پیدا ہوتا ہے واذا اردنا ان نهلك قرية امرنا مترفيها اور جب ہم کسی بستی کو غارت کرنا چاہتے ہیں تو اس کے نفسقوافيها فحق عليها القول فدمرناها سرکش لوگوں کو حکم دیتے ہیں۔ پھر وہ شرارت کرتے ہیں تب ان پر حجت تمام ہو جاتی ہے۔ پھر ہم اس بستی کو تباہ و تد ميرا (اسرار ۱۶) برباد کر دیتے ہیں۔ اس آیت کی تشریح میں حضرت عبد اللہ بن عباس نے فرمایا : یعنی ان کے اوپر ہم ان کے شریر لوگوں کو مسلط کر دیتے ہیں۔ پھر وہ نافرمانی کرتے ہیں۔ جب وہ ایسا کر لیتے ہیں تو اللہ ان کو عذاب بھیج کر ہلاک کر دیتا ہے (سلطنا شرارها فعصوافيبها فاذا فعلوا ذلك اهلكهم الله بالعذاب، تفسير ابن كثير) اجازت نہ ملے تو برا مانے بغیر واپس آجانا مكان النبی صلی اللہ علیہ وسلم لا يزيد على ثلاث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کے یہاں جاتے تو تین تسليمات فان اذن له والا انصرف بار سلام کرتے ۔ اگر اجازت مل جاتی تو ملتے ورنہ واپس (رواه البزار عن انس بن مالك) ہو جاتے۔ اپنی ذات سے زیادہ ماں باپ کا خیال کرنا حضرت ابو ہریرہ کو اپنے ماں کے حقوق ادا کرنے کا بہت زیادہ خیال رہتا تھا۔ مدنی زندگی کے ابتدائی دور کا واقعہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک روز میں اپنے گھر سے نکلا اور مسجد پہنچا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ اندھیری کئی لوگ ہیں۔ انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ اس وقت تم کو کیا چیز یہاں لے آئی ہے۔ میں نے کہا بھوک۔ انھوں نے کہا: خدا کی قسم ہم بھی صرف بھوک کی وجہ سے اس وقت یہاں آئے ہیں۔ پھر ہم سب لوگ اٹھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے۔ آپ نے پوچھا کہ اس وقت تم لوگ کیسے یہاں آئے۔ ہم نے بتایا۔ آپ نے ایک برتن منگوایا جس میں کھجوریں نہیں ۔ آپ نے ہم میں سے ہر شخص کو دو کھجوریں دیں اور کہا کہ ان دو کھجوروں کو کھاؤ اور اس کے بعد پانی پیو۔ وہ تمھارے آج کے لئے کافی ہو جائیں گی۔ ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک کھجور کھائی اور دوسری کھجور چھپا کر رکھ لیں۔ آپ نے فرمایا: اے ابو ہریرہ تم نے کیوں ایک کھجور رکھ لی۔ میں نے کہا کہ اپنی ماں کے لئے۔ آپ نے فرمایا: اس کو کھاؤ، تمھاری ماں کے لئے ہم اور دو کھجوریں دے دیں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader