اجتماعی آداب
Urdu book, p. 98
By Maulana Wahiduddin Khan
میں گفتگو کرتے جس سے کسی ثواب کی امید ہوتی۔ کم بولنا اور کسی کے خلاف دل میں شکایت نہ ہونا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کا انتقال ہونے لگا۔ لوگ ان کے پاس آئے تو دیکھا کہ ان کا چہرہ چمک رہا ہے لوگوں نے سبب پوچھا تو انہوں نے کہا: میرے پاس اپنے اعمال میں سب سے زیادہ قابل اعتماد میری دو عادتیں ہیں۔ ایک یہ کہ میں بے فائدہ بات نہیں کرتا تھا۔ دوسرے یہ کہ میرا دل مسلمانوں کے معاملہ میں بالکل صاف تھا (کنت لا أتكلم فيما لا يينينى وكان قلبى سليماً للمسلمين ، جامع العلوم والحكم 99) برے سلوک کے جواب میں اچھا سلوک کرنا عن عبادة بن الصامت رضی اللہ عنہ قال قال عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الا أدلكمُ علی ما اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تم کو وہ کام نہ بتاؤں جس سے يرفع الله به الدرجات - قالوا نعم يا رسول الله اللہ درجات کو بلند کرتا ہے۔ لوگوں نے کہا ہاں اے خدا کے قال تعلمُ عَلَى مَنْ جَهِلَ عليك وتعفوا عمن رسول آپ نے فرمایا: جو تمھارے ساتھ جہالت کرے اس ظَلَمَكَ وتطعى من حر مک وتصل من قطعك کے ساتھ تم بردباری کرو۔ جو تمھارے اوپر ظلم کرے اس کو تم (ترغیب و ترہیب بحوالہ بزار و طبرانی) معاف کر دو۔ جو تم کو نہ دے تم اس کو دو۔ جو تمھارے ساتھ قطع رحم کرے تم اس کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔ غصہ پی جانے سے ایمان بڑھتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے غصہ کو پی جائے حالاں کہ وہ اس کو نافذ کرنے کی قدرت رکھتا ہو تو اللہ اس کے دل کو ایمان اور سکون سے بھر دیتا ہے (من كظم غضبا وهو يقدر على انفاذه ملأ الله قلبه ایماناً و ایمانا) عبادت، اتحاد ، خیر خواہی صحیح مسلم میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تین عمل سے راضی ہوتا ہے۔ وہ اس پر راضی ہوتا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور اللہ کی رسی کو خوب پکڑ لو اور متفرق نہ ہو۔ اور جو تمھارے معاملات کا ذمہ دار ہو اس کے ساتھ خیر خواہی کرو۔ مسند احمد میں جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے خیف میں خطبہ دیتے ہوئے کہا: تین چیزیں ہیں جن کے بارے میں مومن کا قلب کبھی خیانت نہیں کرتا۔ خالص اللہ کے لئے عمل۔ امرار کے ساتھ خیر خواہی اور مسلمانوں کی جماعت کو پکڑے رہنا (اخلاص العمل الله ومنا صحة ولاة الأمر ولزوم جماعة المسلمين) گمان کی بات پر نہ جاؤ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گمان کی تحقیق نہ کرو (واذا ظننتم فلا تحققواه احكام القرآن للجصاص)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader