اجتماعی آداب
Urdu book, p. 105
By Maulana Wahiduddin Khan
سختی کرنے پر بھی اس نے اس سے زیادہ کچھ نہیں بتایا۔ اس کے بعد اس غلام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ آپ کے سوال پر بھی اس نے اپنے اسی سابقہ جملہ کو دہرایا: "ان کی تعداد بہت ہے اور ان کی طاقت بڑی ہے۔" آپ نے کوشش کی کہ وہ دشمن کی صحیح تعداد بتائے، مگر وہ راضی نہ ہوا۔ آخر آپ نے اپنے سوال کو بدل دیا۔ آپ نے اس سے پوچھا: "وہ لوگ روزانہ کتنے اونٹ ذبح کرتے ہیں؟" غلام نے کہا "دس اونٹ۔" آپ نے فوراً کہا: اس حساب سے دشمن کی فوج کی تعداد ایک ہزار ہے۔ کیونکہ ایک اونٹ ایک سو آدمیوں کی خوراک کے لئے کافی ہوتا ہے " اس کام میں نہ پڑو جو تمہارے بس کا نہ ہو خلیفہ ثانی حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ۱۳ سو برس پہلے فرمایا: جس نے بھیڑے کی چرواہی کی اس نے ظلم کیا (من استرعى الذئب ظلم، ابن مردویہ عن ابن عمر) معاملات میں صرف نیک نیت ہونا کافی نہیں جنگ جمل (۳۶ ھ) زوروں پر تھی۔ دونوں طرف مسلمانوں کی لاشیں میدان میں گر رہی تھیں۔ حضرت عائشہ رض اگرچہ جنگ جمل میں شریک تھیں مگر وہ مقام جنگ سے بہت دور تھیں۔ کعب بن سور مسلمانوں کے خون سے پریشان تھے۔ وہ حضرت عائشہ کے پاس آئے اور کہا کہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنے اونٹ پر سوار ہو جائیں اور میدان جنگ کی طرف چلیں۔ ممکن ہے کہ آپ کی سواری کو دیکھ کر لوگ جنگ سے رک جائیں اور صلح کی صورت پیدا ہو جائے۔ حضرت عائشہ خود بھی باہمی کشت و خون سے پریشان تھیں وہ فورا آمادہ ہو گئیں اور اپنے اونٹ پر سوار ہو گئیں۔ آپ کے ہودج کے چاروں طرف لوگوں نے احتیاط کی غرض سے نہریں پھیلا دیں ۔ اور ان کے اونٹ کو لاکر ایسے مقام پر کھڑا کر دیا جہاں سے پورا لشکر ان کو دیکھ سکتا تھا۔ مگر نتیجہ امید کے بالکل خلاف نکلا۔ لڑائی کم ہونے کے بجائے اور بڑھ گئی۔ لوگ سمجھے کہ ام المومنین نفس نفیس میدان جنگ میں آگئی ہیں اور ان کو بہادری کے ساتھ لڑنے کی ترغیب دے رہی ہیں۔ اس طرح ان کی موجودگی مزید اشتعال واشتداد پیدا کرنے کا سبب بن گئی۔ حضرت عائشہ کا اونٹ مسلمانوں کے کشت و خون کا مرکز بن گیا۔ یہاں تک کہ حضرت علی نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اس اونٹ کو مار کر گرا دو ۔ جب تک یہ اونٹ نہیں گرے گا جنگ نہیں رک سکتی۔ کبھی بولنے کے بجائے چپ رہنا ضروری ہوتا ہے احد کی جنگ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہو کر ایک گڑھے میں گر گئے۔ مشہور ہو گیا کہ آپ قتل ہو گئے (ان محمد اقتل قتل) مسلمان کہنے لگے کہ جب آپ قتل ہو گئے تو اب ہم کس پر لڑیں (علام نقاتل اذا کان محمد قد قتل) اس دہشت میں سب سے پہلے جس نے آپ کو گڑھے میں دیکھا وہ کعب بن مالک انصاری تھے۔ وہ پکار اٹھے: اے مسلمانوں کے گروہ تم کو خوش خبری ہو دیا معشر المسلمین ابشرا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ چپ رہو (فاشار اليه الرسول ان اصمت)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader