اللہ والے
Urdu book, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
لائق اور صالح آدمی ہر چیز سے زیادہ قیمتی بخاری نے تاریخ صغیر میں یہ واقعہ نقل کیا ہے۔ زید بن اسلم اپنے باپ کے واسطے سے بتاتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے اصحاب سے کہا: تم لوگ اپنی تمنائئیں بیان کرو۔ کسی نے کہا: میری تمنا ہے کہ یہ گھر میرے لئے درہم سے بھرا ہوتا تو میں اس کو اللہ کے راستہ میں خرچ کرتا۔ کسی نے کہا: میرے پاس، اس گھر کے برابر سونا ہوتا تو میں اس کو اللہ کے راستہ میں دیتا۔ کسی نے کہا: میری تمنا ہے کہ یہ گھر میرے لئے موتیوں سے بھرا ہوتا اور میں اس کو اللہ کے راستہ میں خرچ کرتا وغیرہ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لكنى اتمئی ان يكون ملأهن البيت رجلا مثل لیکن میری تمنا تو یہ ہے کہ اس گھر بھر میرے پاس ابو عبیدہ ابى عبيدة تا بن الجراح و معاذ بن جبیل و حذیفة بن الجراح، معاذ بن جبل اور حذیفہ بن یمان جیسے آدمی ہوتے بن الیمان فاستعملهم فى طاعة الله اور ان کو میں اللہ کے کاموں میں استعمال کرتا۔ امیر کے اوصاف ابن سعد نے عبداللہ بن عباسؓ سے روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کی اتنی خدمت کی کہ ان کے گھر والوں میں سے بھی کسی نے اتنی خدمت نہیں کی۔ وہ مجھ کو اپنے پاس بیٹھاتے اور میری عزت کرتے تھے۔ ایک روز میں ان کے گھر میں تنہائی میں ان کے ساتھ تھا۔ اچانک انھوں نے اتنے زور کی آہ بھری کہ مجھے گمان ہوا کہ اسی کے ساتھ ان کی جان نکل جائے گی۔ میں نے پوچھا: کیا آپ نے کسی ڈر کی وجہ سے آہ بھری ہے۔ انھوں نے کہا ہاں۔ میں نے کہا وہ ڈر کیا ہے۔ فرمایا میرے قریب آجاؤ۔ میں قریب ہو گیا۔ پھر فرمایا: اس کام (خلافت) کے لئے میں کسی کو نہیں پاتا۔ میں نے چھ آدمیوں کا نام لے کر کہا: کیا آپ فلاں اور فلاں سے غافل ہیں۔ میں ایک ایک کا نام لیتا جاتا تھا اور وہ ہر ایک کے بارہ میں کچھ نہ کچھ کہتے جاتے تھے۔ آخر میں فرمایا: انه لا يصلح لهذا الامر الا شديد فى غير اس کام کا اہل صرف وہی شخص ہے جو شدید ہو بغیر اکڑے، عنف، لين فى غير ضعف، جواد من غير سرت، نرم ہو بغیر کمزوری کے، سخی ہو بغیر فضول خرچی کے، ممسك فى غير بخل (كنز العمال جلد ۳) مال روکنے والا ہو بغیر بخل کے۔ عبداللہ بن عباسؓ نے کہا: یہ صفات عمر رضی اللہ عنہ کے سوا کسی اور میں جمع نہیں ہوئیں۔ امیر کے ہم نشینوں کو کیسا ہونا چاہئے طبرانی نے عبداللہ بن عباسؓ سے نقل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھ سے کہا: اے میرے بیٹے! میں دیکھتا ہوں کہ امیر المومنین (عمر رضی اللہ عنہ) تم کو اپنی مجلسوں میں بلاتے ہیں، تم کو اپنے قریب بیٹھاتے ہیں اور تم سے دیگر اصحاب رسولؐ کے ساتھ مشورہ لیتے ہیں۔ تم مجھ سے تین نصیحتیں یاد کرو: اتق الله لا يجدبن عليك كذبة، ولا تفتشين له سرا، اللہ ڈرو، امیرالمومنین تمھارے بارے میں کبھی جھوٹ کا ولا تغتابن عندہ ٥ احدا تجربہ نہ کریں۔ ان کے بھید کو کبھی ظاہر نہ کرنا،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader