حکمت اسلام
Urdu book, p. 118
By Maulana Wahiduddin Khan
معاملات میں باقاعدگی ابی سعد اور بیہقی نے ابو ہریرہ رضہ سے نقل کیا ہے ۔ وہ ابو موسیٰ اشعری رضہ کے یہاں سے آٹھ لاکھ درہم لے کر مدینہ آئے ۔ صبح کی نماز کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے کہا : رات میرے پاس دہ مال آیا ہے کہ ابتدائے اسلام سے اب تک اتنا مال کبھی نہیں آیا ۔ میری رائے ہے کہ میں اس کو کیل سے ناپ ناپ کر لوگوں میں تقسیم کر دوں ۔ اس معاملہ میں تم لوگ اپنی رائے دو ( فاشیر و اعلیٰ ) عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا : میرا خیال ہے کہ تمام لوگوں کے لئے مال کثیر کی ضرورت ہوگی اگر لوگوں کا شمار نہ کیا جائے جس سے یہ پہچان ہو جائے کہ کس نے لیا اور کس نے نہیں لیا تو اندیشہ ہے کہ یہ کام منتشر ہو جائے ۔ “ (اری مالا کثیرا یسع الناس وان لم يحصوا حتى يعرف من اخذ ممن لم ياخذ خشية ان ينتشر الامر ) یہ سن کر ولید بن ہشام بن مغیرہ نے کہا : اے امیر المومنین ، میں ملک شام گیا ، وہاں کے بادشاہوں کو میں نے دیکھا کہ انھوں نے رجسٹر بنائے ہیں اور اس کام پر کارندے مقرر کئے ہیں ۔ اس لئے آپ بھی رجسٹر اور کارندے مقرر کیجئے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس مشورہ کو مان لیا اور عقیل بن ابی طالب ، مخرمہ بن نوفل ، جبیر بن مطعم کو رجسٹر تیار کرنے پر متعین فرمایا ۔ ( طبقات ابن سعد ، جلد ۳ ، صفحه ۲۱۶ ) چپ رہنا سیکھو جس طرح تم بولنا سیکھتے ہو ابن عساکر نے ابو الدر دار ضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ۔ انھوں نے لوگوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا : تم چپ رہنے کو اسی طرح سیکھو جس طرح تم بولنے کو سیکھتے ہو ۔ کیوں کہ چپ رہنا بہت بڑی بردباری ہے ۔ اور بات کرنے سے زیادہ سننے کے حریص بن جاؤ ۔ کسی ایسی چیز کے بارے میں بات نہ کرو جو تمھارے لئے بے فائدہ ہو ۔ تعجب کے بغیر ہنسنے والا نہ بن اور ضرورت کے بغیر چلنے والا نہ بن ۔ ( تعلموا الصمت كما تعلمون الكلام فان الصمت حلم عظيم وكن الى ان تسمع احرص منك الى ان تتكلم ولا تتكلم فى شئى لا يعنيك ولا تكن مضمى كا من غير عجب ولا مشاء الى غير ارب ، کنز العمال جلد ۲ ، صفحہ ۱۵۹ ) نصیحت کا راستہ تکلیفوں کا راستہ ہے طبرانی نے ابو جعفر خطمی سے نقل کیا ہے ۔ ان کے دادا عمیر بن حبیب بن حماسہ رضی اللہ عنہ نے اپنے لڑکے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا : تم میں سے کوئی شخص امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام کرنا چاہے تو وہ اپنے آپ کو لوگوں کے آزار پر صبر کرنے کے لئے تیار کرلے ۔ وہ اللہ کی طرف سے ملنے والے اجر پر بھروسہ رکھے ۔ کیوں کہ جس نے اللہ کے اجر پر بھروسہ کیا ، اس کو لوگوں کا آزار کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا ( اذا اراد احدكم ان يامر بالمعروف او ينهي عن المنكر فليوطن نفسه على الصبر على الاذى وثيق بالثواب من الله تعالى ۔ فانه من وثق بالثواب من الله عز وجل لم يضره مس الاذى ) رسول اللہ کی جنگ اشاعت اسلام کے لئے تھی نہ کہ اقتدار کے لئے خلافت راشدہ کے بعد مسلمانوں میں جو باہمی لڑائیاں ہوئیں ، حضرت عبداللہ بن عمر رضہ ان میں شریک نہیں تھے ۔ لوگوں نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader