حکمت اسلام
Urdu book, p. 119
By Maulana Wahiduddin Khan
کہا: آپ فتنہ کو ختم کرنے کے لئے جنگ کیوں نہیں کرتے ۔ سعید بن جبیر کی روایت کے مطابق عبداللہ بن عمر رض نے جواب دیا: تم جانتے ہو کہ فتنہ کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین سے لڑتے تھے اور اس کا مقصد ان میں اسلام داخل کرنا تھا۔ تمھاری طرح آپ کی جنگ اقتدار کے لئے نہ تھی (وليس بقتالكم علی الملک ، تفسیر ابن کثیر جلد ۲ صفحه ۳۰۸) اختلاف کی قیمت پر اقتدار حاصل کرنا درست نہیں خالد بن سمیر کہتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رض سے کہا گیا: بہتر ہو کہ آپ خلافت کا کام سنبھالنے کے لئے کھڑے ہو جائیں۔ کیوں کہ آپ کے ساتھ تمام لوگ راضی ہیں۔ آپ نے فرمایا: تم بتاؤ اگر ایک آدمی مشرق میں مخالفت کر دے ، لوگوں نے کہا۔ کسی نے مخالفت کی تو اس کو قتل کر دیا جائے گا اور امت کی بہتری کے لئے ایک آدمی کا قتل کر دیا جانا کیا ہے۔ حضرت ابن عمر رض نے کہا: خدا کی قسم مجھے یہ پسند نہیں کہ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک نیزے کا ڈنڈا پکڑے اور میں اس کی نوک پکڑتے ہوئے ہوں اور اس نیزے سے مسلمانوں میں سے ایک شخص قتل کر دیا جائے اور اس کے بدلے میں میرے لئے دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے، وہ سب ہو۔ حضرت قطن کی روایت میں ہے کہ ایک آدمی حضرت عبداللہ بن عمر رض کے پاس آیا اور کہا: تم سے زیادہ برا ۔ امت محمدؐ کے لئے اور کوئی نہیں (وما احد شر لامة محمد منک) آپ نے کہا کیوں۔ میں نے تو خدا کی قسم نہ ان کا خون بہایا ہے اور نہ ان کی جماعت میں تفرق ڈالی ہے اور نہ ان کے عصا کو توڑا ہے ۔“ آدمی نے کہا: اگر آپ چاہیں تو امت کے دو آدمی بھی آپ کے بارے میں اختلاف نہ کریں۔ حضرت ابن عمر رض نے فرمایا: مجھے پسند نہیں کہ خلافت مجھے ملے اور ایک آدمی کہے نہیں۔ دوسرا کہے ہاں (ما احب انها انتنی ورجل یقول لا و آخر یقول بلی، طبقات ابن سعد) تبدیلی حکومت کے نام پر مسلمانوں کا قتل درست نہیں حاکم نے ابو عریف کے واسطے سے نقل کیا ہے۔ معاویہ رض کے مقابلہ میں حسن بن علی رض کی جو فوج تھی، میں اس کے مقدمہ میں میں تھا۔ ہم بارہ ہزار تھے اور ہماری تلواریں اہل شام سے جنگ کے لئے گویا ابھی سے خون ٹپکا رہی تھیں۔ ہمارے سردار ابو عمر طلحہ تھے۔ جب ہم کو یہ خبر پہنچی کہ حسن بن علی رض اور معاویہ رض کے درمیان صلح ہوگئی تو گویا غصہ اور گرمی کی وجہ سے ہماری کمریں ٹوٹ گئیں۔ حضرت حسن بن علی رض جب کوفہ آئے تو ہم میں سے ایک آدمی نکل کر ان کی طرف گیا۔ اس کا نام ابو عامر سفیان بن لیل تھا۔ اس نے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: السلام عليك يا مذل المومنین (السلام علیکم اے مسلمانوں کو ذلیل کرنے والے) حضرت حسن بن علی رض نے فرمایا: اے ابو عامر ! ایسا مت کہو۔ میں نے مسلمانوں کو ذلیل نہیں کیا۔ بلکہ مجھے یہ بات پسند نہیں آئی کہ میں اقتدار کے لئے لوگوں کو قتل کروں (لم اذهل المومنين ولكني كرهت ان اقتلهم فی طلب الملک ، البدایہ والنہایہ ، جلد ۸) اپنی خواہشات سے مقابلہ کرنا نہ زیادہ بڑا جہاد ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک غزوہ سے لوٹے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف آئے ہو۔ لوگوں نے پوچھا بڑا جہاد کیا ہے؟ ۔ فرمایا: بندے کا اپنی خواہش کے خلاف جہاد کرنا (مجاھدة العبد لهواه ، جامع العلوم والحكم صفحه ۱۷۱)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader