Urdu book · اسلامی زندگی

حکمت اسلام

Urdu book, p. 120

By Maulana Wahiduddin Khan

ہر آدمی کا شیطان اس کے ساتھ لگا ہوا ہے ابن ابی شیبہ نے حضرت سلیم بن حنظلہ سے روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تا کہ ان سے کچھ سنیں۔ پھر حضرت ابی بن کعب اٹھے اور ہم بھی اٹھے اور ان کے پیچھے چلنے لگے۔ راستہ میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے فرمایا: کیا تم کو نہیں معلوم کہ یہ آگے چلنے والے کے لئے فتنہ اور پیچھے چلنے والے کے لئے ذلت ہے (اما تری فتنۃ للمتبوع ذلۃ للتابع ، کنزالعمال جلد ۸) اللہ کو وہی عمل پسند ہے جو مستقل کیا جائے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چٹائی تھی ۔ دن کو آپ اس پر بیٹھتے اور رات کو اس پر کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تھے۔ لوگ آپ کے پاس آنے لگے اور آپ کے ساتھ نماز پڑھنے لگے۔ یہاں تک کہ لوگوں کی تعداد زیادہ ہو گئی۔ آپ نے فرمایا: اے لوگو! اتنا ہی عمل کرو جس کی تم طاقت رکھتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نہیں اکتاتا یہاں تک کہ تم اکتاداؤ۔ اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہے جس کو مستقل کیا جائے، اگر چہ وہ تھوڑا ہو (دان احب الاعمال الى الله مادام وان قل) ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والے جب کوئی عمل کرتے تو وہ اس پر قائم رہتے تھے (وكان آل محمد اذا عملوا عملا اثبتوه ، بخاری و مسلم) خدا اکراسی کے ساتھ ہوتا ہے جس کو حقیر سمجھ کر آدمی نظر انداز کر دیتا ہے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ کہے گا اے ابن آدم! میں بیمار ہوا اور تو میری عیادت کے لئے نہیں آیا۔ بندہ کہے گا: اے میرے رب میں تیری عیادت کیسے کر سکتا ہوں تو رب العالمین ہے۔ اللہ کہے گا کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا مگر تو اس کی عیادت کو نہیں گیا۔ کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ تو اگر اس کی عیادت کو جاتا تو مجھ کو اس کے پاس پاتا (اما علمت انك لو عدته لوجدتني عندہ) پھر اللہ کہے گا: اے ابن آدم! میں نے تجھ سے کھانا مانگا مگر تو نے مجھ کو کھانا نہیں دیا۔ بندہ کہے گا: اے میرے رب، میں کیسے تجھ کو کھانا کھلا سکتا ہوں تو رب العالمین ہے۔ اللہ کہے گا: کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ میرے فلاں بندہ نے تجھ سے کھانا مانگا مگر تو نے اس کو نہیں کھلایا۔ کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اگر تو اس کو کھانا کھلاتا تو تو مجھ کو اس کے پاس پاتار۔ پھر اللہ کہے گا اے ابن آدم ! میں نے تجھ سے پانی مانگا مگر تو نے مجھ کو پانی نہیں پلایا۔ بندہ کہے گا: اے میرے رب، میں کیسے تجھ کو پانی پلا سکتا ہوں تو رب العالمین ہے۔ اللہ کہے گا: میرے فلاں بندہ نے پانی مانگا مگر تو نے اس کو پانی نہیں دیا۔ کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اگر تو اس کو پانی پلاتا تو مجھ کو اس کے پاس پاتا۔ (صحیح مسلم) جس نے دنیا میں اپنے کو چھپایا وہ آخرت میں نمایاں ہوگا ابن ابی الدنیا نے نقل کیا ہے کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اپنی ذات کو اس طرح چھپاو کہ تمھارا تذکرہ نہ کیا جائے اور خاموشی اختیار کرو، تم سلامت رہو گے (وار شخصك لا تد كروا صمت تسلم، کنز العمال جلد ۲ صفحه ۱۵۸)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page